محمد شہزاد کے ذریعے کیے گئے تراجم
پاتال اور جھولتی تلوار
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی 'The Pit and the Pendulum' کا اردو ترجمہ ہے۔ اس میں ایک قیدی اندھیری کوٹھڑی میں موت کے سائے تلے پڑا ہے، جہاں جھولتی ہوئی فولادی دھار آہستہ آہستہ اس کے دل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ہر لمحہ خوف، بے بسی اور اذیت میں گزرتا ہے، مگر امید کی آخری کرن اسے زندہ رکھتی ہے۔ جب دیواریں سکڑ کر اسے پاتال کی طرف دھکیلنے لگتی ہیں تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اب کوئی نجات نہیں۔ موت کے آخری لمحے میں اچانک مدد کا ہاتھ بڑھتا ہے اور وہ جہنم جیسے عذاب سے بچ نکلتا ہے۔
آخری ملاقات
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی مشہور مصنف ایڈگر ایلن پو کی 'The Assignation' کا اردو ترجمہ ہے، جو وینس کے خوبصورت پس منظر میں محبت، حسن اور موت کی ایک گہری المیہ داستان بیان کرتی ہے۔ کہانی ایک ایسے دولت مند، آرٹ کے دلدادہ نوجوان رئیس اور ایک معزز خاتون کے گرد گھومتی ہے جو معاشرتی بندشوں اور رسم و رواج کی وجہ سے ایک نہیں ہو پاتے۔ اپنی ادھوری مگر کامل محبت کو لافانی بنانے کے لیے، وہ دونوں دنیاوی بندھنوں کو توڑ کر خاموشی سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
شراب کا پھندہ!
ایڈگر ایلن پو
یہ ایڈگر ایلن پو کی کہانی "The Cask of Amontillado" کا اردو ترجمہ ہے، جس میں ایک آدمی اپنے دوست کو لالچ دے کر تہہ خانے میں لے جاتا ہے اور وہاں اسے دیوار میں زندہ بند کر دیتا ہے تاکہ اس سے مکمل اور خاموش انتقام لے سکے۔
ضمیر کی دھڑکن
ایڈگر ایلن پو
یہ انگریزی زبان میں شائع (The Tell Tale Heart) کا ترجمہ ایک نفسیاتی کہانی ہے جس میں ایک شخص، ایک بوڑھے آدمی کو اس کی آنکھ سے نفرت کی وجہ سے قتل کر دیتا ہے۔ کہانی میں وہ اپنے آپ کو پاگل نہیں سمجھتا بلکہ انتہائی ہوشیار اور حساس ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آخر میں اس کے ضمیر کی آواز اسے پولیس کے سامنے اعترافِ جرم پر مجبور کر دیتی ہے۔
خوابوں سے محبت
ایڈگر ایلن پو
بعض لوگ زندگی سے نہیں، اپنے خوابوں سے محبت کرتے ہیں اور جب خواب ٹوٹ جائیں تو انہیں دنیا کی کوئی دولت، کوئی عزت اور کوئی کامیابی زندہ نہیں رکھ سکتی۔
”عجیب و غریب“ کے فرشتے کا رنگین تماشہ
ایڈگر ایلن پو
انگریزی زبان میں شائع 'The Angel of the Odd - An Extravaganza' ایڈگر ایلن پو کی یہ کہانی ایک مغرور شخص کی ہے جو زندگی کے عجیب و غریب حادثات کو جھوٹ سمجھ کر ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ ایک دن اس کے سامنے بوتلوں اور پیپوں سے بنا “عجیب و غریب کا فرشتہ” نمودار ہو کر اسے چیلنج کرتا ہے۔
نقاب پوش اور سرخ موت!
ایڈگر ایلن پو
'The Masque of the Red Death' ایڈگر ایلن پو کی یہ مشہور علامتی اور گوتھک کہانی 1842ء میں شائع ہوئی۔ اس میں ایک شہزادے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ایک جان لیوا وبا سے بچنے کے لیے خود کو اپنے ساتھیوں سمیت ایک محفوظ قلعے میں محصور کر لیتا ہے۔ یہ کہانی طاقت، دولت اور انسانی غرور کے مقابلے میں موت کی ناگزیر حقیقت کو نہایت مؤثر علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی ایک سماجی طنز بھی ہے۔ جب عام لوگ وبا سے مر رہے تھے، امیر طبقہ اپنی محفوظ دنیا میں جشن منا رہا تھا۔ پو یہ بتاتا ہے کہ دولت انسان کو دوسروں کے دکھ سے تو دور کر سکتی ہے، لیکن موت سے نہیں بچا سکتی۔
سرخ پھول
وسیولود میخائیلووچ گارشن
یہ کہانی روسی مصنف وسیوولڈ گارشین (Vsevolod Garshin) کے مشہور افسانے 'سرخ پھول' (The Red Flower) کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ایک ایسے شدید ذہنی مریض کی داستان ہے جسے پاگل خانے لایا جاتا ہے۔ مریض خود کو ایک عظیم عالمی مشن پر مامور سمجھتا ہے جہاں اس کا مقصد دنیا سے تمام برائیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ہسپتال کے باغ میں اگے ہوئے ایک شوخ سرخ پھول کو وہ کائنات کی تمام تر برائیوں اور منفی طاقتوں کا مرکز سمجھ بیٹھتا ہے۔ اپنے جنون میں وہ اس پھول کو توڑ کر اپنے سینے سے چھپا لیتا ہے تاکہ اس کے زہر کو اپنے اندر جذب کر کے دنیا کو شر سے نجات دلا سکے۔ یہ کہانی انسانی نفسیات، دیوانگی، اور خیر و شر کے درمیان جاری ایک مبہم مگر دردناک جنگ کی عکاسی کرتی ہے۔
اشر کی حویلی کا انجام!
ایڈگر ایلن پو
یہ کہانی انگریزی زبان میں 'The Fall of the House of Usher' کے نام سے موجود ہے۔ جس میں ایک راوی ہے جو اپنے دوست روڈرک کی دعوت پر اس کی پرانی اور ویران حویلی پہنچتا ہے۔ وہاں روڈرک اور اس کی جڑواں بہن میڈلین پراسرار بیماریوں میں مبتلا ملتے ہیں۔ کچھ دن بعد میڈلین بظاہر مر جاتی ہے، لیکن تدفین کے بعد وہ اچانک زندہ واپس آ جاتی ہے۔ اس خوفناک منظر کو دیکھ کر روڈرک صدمے سے مر جاتا ہے اور حویلی زمین بوس ہو جاتی ہے۔
زندہ تصویر!
ایڈگر ایلن پو
یہ ’ایڈگر ایلن پو‘ کی انگریزی میں شائع 'The Oval Portrait' کہانی کا اردو ترجمہ ہے، جس میں ایک شدید زخمی شخص ایک متروک محل میں رات گزارتے ہوئے ایک پراسرار بیضوی تصویر دیکھتا ہے جس کی زندگی جیسی حقیقت اسے ہلا دیتی ہے۔
چار دن!
وسیولود میخائیلووچ گارشن
یہ کہانی زیوولوڈ گارشن کے افسانے "Four Days" کا اردو ترجمہ ہے، جو ایک زخمی سپاہی کی کہانی ہے جو میدانِ جنگ میں چار دن تک موت کے انتظار میں پڑا رہتا ہے۔ اپنے زخموں، پیاس اور تنہائی کے دوران وہ جنگ، قتل اور انسانیت کے بارے میں گہری سوچ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ افسانہ جنگ کی بہادری کے پردے کے پیچھے چھپی انسانی اذیت اور المیے کو بے نقاب کرتا ہے۔