Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Momin Khan Shauq's Photo'

مومن خاں شوق

1941 - 2025 | حیدر آباد, انڈیا

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اردو کے معروف شاعر

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اردو کے معروف شاعر

مومن خاں شوق کا تعارف

تخلص : 'شوق'

اصلی نام : مومن خاں

پیدائش : 15 Jun 1941 | حیدر آباد, تلنگانہ

وفات : 07 Aug 2025 | حیدر آباد, تلنگانہ

مومن خاں شوق کا اصل نام مومن خاں ہے مگر ادبی اور سماجی دنیا میں مومن خاں شوق کے نام سے معروف ہیں۔ ان کا تخلص شوق ہے۔ ان کی ولادت  15 جون 1941ء کو منور خان کے گھر میں ہوئی تھی۔ 1964 ء میں جامعہ عثمانیہ سے بی کام کی ڈگری حاصل کی اور پھر ایف ایس اے اے کامیاب کیا اور 1965 ء میں زرعی یونیورسٹی کے اڈمنسٹریٹیو آفس میں ملازمت شروع کی ۔ اپنی محنت اور لگن سے ترقی کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت سے 1996 ء میں بحسن و خوبی وظیفہ پر سبکدوش ہوئے۔

مومن خان شوق کے بڑے بھائی جناب عمر خان عاصی ڈپٹی اگزیکٹیو انجنیئر (موظف) جو اب نیو جرسی (امریکہ) میں مقیم ہیں، ان کی ادبی تحریروں نے انھیں ذوقِ شعر و ادب کی طرف مہمیز کیا۔ ادبی مطالعہ کے ساتھ شاعری کے رموز بھی آشکارا ہوئے تب ہی جناب شوق نے حیدرآباد کے استاد شعراء سے شعر فہمی میں بہت کچھ جانا اور سیکھا ۔ یوں توان کےشعری سفر کا آغاز 1968 ء سے ہوا لیکن 1970 ء سے حیدرآباد کے اردو اخبارات و رسائل اور ہندوستان کے ادبی رسائل میں ان کا کلام شائع ہوتا رہا ہے۔ تاحال ان کے چھ (6) شعری مجموعے اور نثری مجموعہ شائع ہوکر منظرعام پر مقبول ہوچکے ہیں جن میں ’’بدلتے موسم‘‘ ، ’’چاندنی کے پھول‘‘ ، ’’نشاط آرزو‘‘ ’’کرن کرن اجالا‘‘ ، ’’یہ موسم گل‘‘ ، سوغات نظر‘‘ کے علاوہ نثری مجموعہ ’’سوغات فکر و نظر‘‘ ہیں۔ ان مجموعوں پر انھیں اردو اکیڈیمی نے انعامات سے بھی نوازا۔

مومن خان شوق کئی ادبی اداروں سے وابستہ رہے ، ادارہ سوغات نظر کے معتمد عمومی کی حیثیت سے ان کی ادبی سرگرمیاں جاری رہیں ۔ اس ادارہ کے تحت تقریباً 200 کے قریب ادبی اجلاس و مشاعرے منعقد کیے جاچکے ہیں۔ ان کا کلام آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد کے نیرنگ پروگرام میں اکثر و بیشتر نشر ہوتا رہا ہے اور دوردرشن حیدرآباد سے بھی ان کا کلام ٹیلی کاسٹ ہوچکا ہے۔ انھیں کئی اداروں کی جانب سے ایوارڈس دیئے گئے جن میں قابل ذکر ’’قومی یکجہتی اندرا گاندھی نیشنل یونٹی ایوارڈ‘‘، ’’سرکاری زبان کمیشن آندھراپردیش ایوارڈ‘‘ ہیں۔

مومن خاں شوق کی شعر گوئی سے متعلق منشاء الرحمٰن خاں منشا اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔
”شاعری لفظوں کے دامن میں فکر و جذبات کے مثبت اقدار کی کشیدہ کاری ہے۔ واقعات اور حادثات سے فضاؤں میں پیدا ہونے والے ارتعاش کو شاعر جب خونِ جگر کی روشنائی سے نذرِ قرطاس کرتا ہے تو شعر کی تخلیق ہوتی ہے لیکن کانٹوں پر برہنہ پا مسافر کا سفر ہے جو ہر کس و ناکس کو نصیب نہیں ہوتا۔ خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنھیں بیدار ذہن اور روشن آنکھیں ملتی ہیں۔ میرے دوست مومن خاں شوق ان ہی خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں۔ زندگی کے مثبت اقدار پر شوق کا ایقان، ایمان کی طرح مضبوط ہے۔ اگر آپ کی ملاقات کبھی ان سے ہوئی ہو یا آپ نے ان کے ساتھ کچھ وقت گزارا ہو تو آپ بھی بھی یقیناً میرے ہم خیال ہوں گے۔ بھرپور جسم، روشن آنکھیں، لبوں پر مسکراہٹ لیے یہ صاف ستھری شخصیت کا شاعر اپنی شخصیت کی طرح شاعری میں بھی اجالے بکھیرتا ہے۔“

موضوعات

Recitation

بولیے