Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Naeem Akhtar Khadimi's Photo'

نعیم اختر خادمی

1951 | برہان پور, انڈیا

برہانپور کے ممتاز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ، اپنی پُراثر غزل گوئی اور دلکش ترنم کے لیے معروف

برہانپور کے ممتاز اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ، اپنی پُراثر غزل گوئی اور دلکش ترنم کے لیے معروف

نعیم اختر خادمی کا تعارف

تخلص : 'نعیم'

اصلی نام : نعیم اختر

پیدائش : 18 Jun 1951 | برہان پور, مدھیہ پردیش

وہ جتنی خود نمائی کر رہا ہے

خود اپنی جگ ہنسائی کر رہا ہے

نعیم اختر خادمی (تخلص: خادمی) ایک اہم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے برہانپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کی پیدائش 18 جون 1951 کو برہانپور میں ہوئی۔ان کا ایک غزل مجموعہ "آواز کا پتھر" کے نام سے منظر عام پر آ چکا ہے۔ ان کی غزلیں گہری حسّاسیت، درد، محبت، سماجی شعور اور روحانی رنگوں سے بھرپور ہوتی ہیں۔ وہ مشاعروں میں اپنی بلند آواز اور موثر ادائیگی اور دلکش ترنم کی وجہ سے بے حد مقبول ہیں۔

ڈاکٹر راحت اندوری نے ان کی شاعری کے حوالے سے لکھا:
”نعیم نے اپنے عہد کی غزل کے ان تمام تقاضوں کو جو عالمی ادب کے لازمی جزو ہیں اپنی شاعری کے ماتھے پر سجا رکھا ہے۔ اس کے یہاں احتجاج بھی رومان بن کر آتا ہے۔ نعیم اختر نے کلاسیکی اور روایتی شاعری سے فیشن کے طور پر دوری اختیار نہیں کی بلکہ اس کی غزلوں میں رومانیت جدیدیت بن کر اپنے فن کی داد لینے میں کامیاب نظر آتی ہے۔“

ظفر صہبائی لکھتے ہیں :
”ان کی شاعری میں شاعری کے عمومی شعراء کی طرح سطحیت اس درجے پر نہیں ہے جہاں شعر کی تخلیقی معنویت ہی تحلیل ہو جاتی ہے۔ برہانپور کی ادبی فضا کا رنگ ان کے اشعار کو اپنا حسن عطا کرتا ہے ۔ جو اردو کی کلاسک شاعری سے مختص ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نعیم اختر خادمی کی شاعری جب سماعتوں کی حدوں سے نکل کر کاغذ پر اپنا سفر شروع کر رہی ہے تو وہ معنویت کی توانائی سے بھری پری دکھائی دے رہی ہے۔ سماعتوں میں شاعری کی زندگی لمحاتی ہوتی ہے جبکہ کاغذ پر وہ تادیر زندہ رہتی ہے۔ ان کے یہاں غزل کو غزل کی طرح برتنے کا شعور موجود ہے جو انہیں سطحیت سے اٹھا کر ایک بلندی پر فائز کرتا ہے۔“

ڈاکٹر اشفاق انجم مالیگاؤں لکھتے ہیں:
”یہ جانتے ہوئے کہ میرے ہاتھ زخم آئیں گے
تمہارے راستے کا میں نے حادثہ اٹھا لیا
شعر میں 'حادثہ اٹھالیا' کا ٹکڑا شاعر کی لفظیات پر گرفت کی دلیل ہے۔ جو اس کی فنکاری کا واضح اظہار ہے۔ لفظ حادثے میں معنی کا ایک جہاں آباد ہے۔
نعیم کی جگہ کوئی مجہول سخنور ہوتا تو حادثے کی جگہ کانٹا یا پتھر استعمال کرتا اور شعر کا سارا حسن ضائع کردیتا۔“

پروفیسر محمد شفیع صفی کا کہنا ہے:
”نعیم اختر خادمی پر کسی خاص دبستان کا ٹھپہ نہیں لگایا جاسکتا وہ جب مشاعروں میں مسکراتے ہوئے اپنے پر درد ترنم میں ڈوب کر غزل پیش کرتے ہیں تو سامعین کو اپنا بنا لیتے ہیں اور ہر شخص واہ واہ کر اٹھتا ہے۔ ان کے اشعار میں سبھی کو اپنے حالات نظر آتے ہیں اس لئے دل پر اثر کرتے ہیں۔
فاصلہ کتنا ہے اس ڈالی سے اس ڈالی کا 
اتنا اڑنے کے لئے پر نہیں تولا کرتے“

مجاز آشنا (برہانپور) لکھتے ہیں:
”نعیم اختر خادمی بر ہانپور کی مٹی میں جنما ایک ایسا روشن اور تابناک ستارا ہے جس کے شعروں کی چمک دمک نہ صرف برصغیر ہند و پاک بلکہ اردو کی تمام نئی بستیوں تک پہنچ چکی ہے۔ غزل کی بنیادی روایت تغزل سے رشتہ قائم رکھنے کی اہمیت و افادیت سے بخوبی واقفیت رکھنے والا یہ شاعر جانتا ہے کہ یہ ایسا تہذیبی سلسلہ ہے جس سے کٹ کر کسی غزل گو کی بقا ممکن نہیں۔
چھوٹی چھوٹی نفسی کیفیات کو شعر کے پیکر میں ڈھال دینا اور وہ بھی اس طرح کہ قاری ٹھیک وہیں پہنچ کر شعر محسوس کرلے جہاں سے کہا گیا ہے، اس ہنر سے نعیم اختر اچھی طرح واقف ہیں۔“ 

موضوعات

Recitation

بولیے