Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Parveen Shaghaf's Photo'

پروین شغف

1980 | دلی, انڈیا

نسوانی لب و لہجے کی باوقار شاعرہ

نسوانی لب و لہجے کی باوقار شاعرہ

پروین شغف کے اشعار

شب بھر وہ میری باہوں سے لپٹا رہا مگر

اس وصل کے وہ مجھ سے دوشالے بھی لے گیا

تیری تکمیل کی خاطر ہی فقط آئینے

خود کو تیار کیا جائے ضروری تو نہیں

میں تو نم ریت کی مورت کی طرح ہوں لیکن

بعد اس کے مجھے پتھر کا خدا ہونا ہے

زندگی کھیل بہت خوب ہیں تیرے لیکن

دل کو کچھ دیر نیا خواب دکھایا جائے

چشم آہو کی قسم رونے سے دکھتا ہے دل

تیری پلکوں پہ میں ہر شام سہانی لکھ دوں

سب دیکھتے رہے ہیں تماشا کھڑے کھڑے

ہنس کر بدن کی خاک اڑاتی رہی ہوں میں

بات وہ کوئی پرانی چھیڑتے

گزری شاموں کی کہانی چھیڑتے

نیند سے بیدار ہوتے ہی ہوئی روٹی کی چاہ

آنچلوں میں سو گئی ہے زندگی اپنی جگہ

Recitation

بولیے