پروین شغف کے اشعار
شب بھر وہ میری باہوں سے لپٹا رہا مگر
اس وصل کے وہ مجھ سے دوشالے بھی لے گیا
تیری تکمیل کی خاطر ہی فقط آئینے
خود کو تیار کیا جائے ضروری تو نہیں
میں تو نم ریت کی مورت کی طرح ہوں لیکن
بعد اس کے مجھے پتھر کا خدا ہونا ہے
زندگی کھیل بہت خوب ہیں تیرے لیکن
دل کو کچھ دیر نیا خواب دکھایا جائے
چشم آہو کی قسم رونے سے دکھتا ہے دل
تیری پلکوں پہ میں ہر شام سہانی لکھ دوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
سب دیکھتے رہے ہیں تماشا کھڑے کھڑے
ہنس کر بدن کی خاک اڑاتی رہی ہوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
نیند سے بیدار ہوتے ہی ہوئی روٹی کی چاہ
آنچلوں میں سو گئی ہے زندگی اپنی جگہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ