پطرس بخاری کے مضامین
پطرس کے مضامین کا سرسری جائزہ
پطرس کے مضامین میں ظرافت عام رواج سے ہٹ کر ہے۔ اور اس کا آغاز مختصر دیباچے ہی سے ہوتا ہے، ’’اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ
سر محمد اقبال
’’وہ انسان جس نے اردو شاعری کو مردانہ پن بخشا۔‘‘ اقبال کی وفات سے ہندوستان ایک جلیل القدر شاعر سے کہیں زیادہ با عظمت ہستی سے محروم ہو گیا۔ وہ بطور ایک عالم اور تاریخ، فلسفہ اور مذہب کے سرگرم طالب علم بھی ان لوگوں کے لئے جو اپنی محدود قابلیت کے
رونا رلانا
ایک امریکن ادبی نقاد ایک مقام پر لکھتا ہے کہ مرد ایک ہنسوڑا جانور ہے اور عورت ایک ایسا حیوان ہے جو اکثر رونی شکل بنائے رہتا ہے۔ مصنف کی خوش طبعی نے اس فقرے میں مبالغے اور تلخی کی آمیزش کر دی ہے اور چونکہ وہ خود مرد ہے اس لئے شاید عورتوں کو اس سے
کچھ عصمت چغتائی کے بارے میں
عصمت چغتائی کے افسانہ میں ایک لڑکی دوسری کے متعلق کہتی ہے کہ ”سعیدہ موٹی تھی تو کیا، کمزور تو حد سے زیادہ تھی بے چاری۔ لوگ جسم دیکھتے ہیں یہ نہیں دیکھتے جی کیسا ہر وقت خراب رہتا ہے۔“ جب میں نے عصمت کی کلیاں اور چوٹیں دونوں مجموعے ختم کر لئے اور جو
ہیبت ناک افسانے
”ہیبت ناک افسانے“ کا پیکٹ جب یہاں پہنچا۔ میں گھر پر موجود نہ تھا۔ میری عدم موجودگی میں چند انگریز احباب نے جو کتابوں اور اشیائے خوردنی کے معاملے میں ہر قسم کی بے تکلفی کو جائز سمجھتے ہیں، پیکٹ کھول لیا۔ یہ دوست اردو بالکل نہیں جانتے۔ بجز چند ایسے کلموں
کاغذی روپیہ
خواجہ علی احمد شہر کے بڑے سوداگر تھے۔ لاکھوں کا کاروبار چلتا تھا۔ لوگوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ بچہ بچہ ان کی دیانت داری سے واقف تھا اور ہر شخص جانتا تھا کہ خواجہ علی احمد قول کے سچے او ربات کے پکے ہیں۔ ایک دن انہوں نے اپنے ایک آدمی کو جوتے