Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Qazi Abdul Gaffar's Photo'

قاضی عبدالغفار

1889 - 1956 | علی گڑہ, انڈیا

صاحبِ اسلوب فکشن نگار، صحافی اور 'لیلیٰ کے خطوط' و 'مجنوں کی ڈائری' کے مصنف

صاحبِ اسلوب فکشن نگار، صحافی اور 'لیلیٰ کے خطوط' و 'مجنوں کی ڈائری' کے مصنف

قاضی عبدالغفار کا تعارف

اصلی نام : قاضی عبدالغفار

پیدائش :مراد آباد, اتر پردیش

وفات : 17 Jan 1956 | علی گڑہ, اتر پردیش

شناخت: ممتاز صحافی، ناول نگار، افسانہ نگار، مترجم اور انجمن ترقیِ اردو کے سابق جنرل سکریٹری

قاضی عبد الغفار دسمبر 1889ء میں مراد آباد کے محلہ تمباکو والان میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی و دینی خانوادے سے تھا، ان کے دادا غازی حامد علی مراد آباد کے صدر قاضی تھے اور والد قاضی ابرار احمد اپنے عہد کے معزز افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائی تعلیم مراد آباد ہی میں حاصل کی اور 1905ء میں ہائی اسکول پاس کیا، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اس وقت علی گڑھ کے تعلیمی ادارے) سے انٹرمیڈیٹ کیا۔

والد کی خواہش پر انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کی اور تحصیلدار مقرر ہوئے، مگر سرکاری ملازمت ان کے مزاج کے خلاف تھی، جلد ہی استعفا دے کر مراد آباد واپس آئے اور صحافت کو اپنا میدان بنایا۔ ان کی صحافتی تربیت معروف قومی رہنما و صحافی مولانا محمد علی جوہر کی سرپرستی میں ہوئی، جو اپنے اخبار 'ہمدرد' کے ذریعے اردو صحافت کی قیادت کر رہے تھے۔

1921ء میں خلافت کمیٹی کے وفد کے رکن کی حیثیت سے لندن گئے۔ مزاج میں تنوع کے باعث ایک عرصہ مراد آباد میں برتنوں کا کاروبار بھی کیا، اگرچہ یہ تجربہ کامیاب نہ ہوا۔ 1928ء تا 1930ء وہ مراد آباد میونسپل بورڈ کے چیئرمین رہے۔ 1934ء میں حیدر آباد منتقل ہوئے، جہاں محکمہ اطلاعات سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں لکھنؤ اور پھر دہلی گئے۔

تقسیمِ ہند کے بعد 1947ء میں وہ انجمن ترقی اردو، ہند کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ مولانا ابو الکلام  کی ایما پر انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے انجمن کے منتشر ڈھانچے کو دوبارہ منظم کیا، ملک بھر کا دورہ کر کے شاخوں کو فعال بنایا، نئی شاخیں قائم کیں اور انجمن کو ازسرِ نو مستحکم کیا۔

ادبی میدان میں قاضی عبد الغفار ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ان کی مشہور تصانیف میں:

لیلیٰ کے خطوط — ایک طوائف کے جذبات اور عورت کے استحصال کی مؤثر عکاسی

مجنوں کی ڈائری — نوجوانوں کی ذہنی و اخلاقی اصلاح پر مبنی تحریر

تین پیسے کی چھوکری — افسانوی مجموعہ

پندار کا صنم کدہ — سماجی ناہمواری اور ذات پات کے خلاف ڈرامہ

نقشِ فرنگ — یورپ کا طنزیہ و معلوماتی سفرنامہ

آثارِ جمال الدین افغانی، آثارِ ابوالکلام آزاد، حیاتِ اجمل اور خلیل جبران کی " The Prophet" کا ترجمہ "اس نے کہا" اور گالز وردی کے ناول کا ترجمہ "سیب کا درخت"۔

قاضی عبد الغفار کی نثر میں رومانیت، نفسیاتی بصیرت، سماجی شعور اور طنزیہ بانکپن نمایاں ہے۔ عورت کے سماجی استحصال، طبقاتی فرق، مذہبی ریاکاری اور معاشرتی منافقت جیسے موضوعات ان کے ہاں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

وفات: 17 جنوری 1956ء کو علی گڑھ میں انتقال ہوا۔

Recitation

بولیے