ریان ابوالعلائی کے مضامین
ذکر خیر حضرت پروفیسر عبد المجید ابوالعلائی
پروفیسر عبدالمجید ابوالعلائی کا تعلق افغانستان کے سرحدی قبائل میں قبیلہ اُتمان خیل سے ہے، یہ قبیلہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں آباد ہے، اُتمان خیل پٹھانوں کا ایک مشہور قبیلہ ہے جس کی مردانگی اور بہادری زبان زدِ خاص و عام ہے، اس قوم کا بنیادی تعلق
نصرت فتح علی خاں مہد سے لحد تک
’’سہرا یہ حقیقت کا نصرتؔ کو سنانے دو‘‘ نصرت فتح علی خاں پاکستان کے بڑے قوال، موسیقار، موسیقی ڈائریکٹر اور بنیادی طور پر قوالی کے گلوکار تھے، نصرت کو اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے قوالی کے گلوکار کے طور پر جانا جاتا ہے، انہوں
حضرت فرید الدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ
بہار میں جن خانوادوں سے تصوف کو فروغ ملا ان میں حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ نمایاں کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے یہاں روحانیت اور اس کی عظمت کا ایسا سلسلہ قائم کیا جس کی چمک تقریباً تین صدیوں پر محیط ہے، کسے پتا تھا کہ بہار شریف میں ملّا
’’مخ المعانی‘‘ کا پس منظر
کتابیں محض کاغذ، قلم اور سیاہی کا امتزاج نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک تہذیب، علم، حکمت، عرفان اور روحانیت کا آئینہ ہوتی ہیں، یہ انسانی شعور کی ارتقائی منازل کی گواہ ہوتی ہیں اور ذہن و دل کو جلا بخشنے کا ایک دیرپا ذریعہ بن جاتی ہیں، ایک مہذب
مظہرالحق: تحریک آزادی کے سچے مجاہد
۱۸۵۷ میں فرزندان ہندوستان نے انگریزی حکومت سے ملک کو آزاد کرانا چاہا لیکن ہندوستان انگریزوں سے اس لیے آزاد نہ ہوسکا کہ اس ہندوستانیوں میں میل نہ تھا، ذات و برادری، حسب و نسب کی کھینچا تانی اپنے عروج پر تھی، جنگ آزادی کے نو برس بعد بہار کی سر زمین
خواجہ صاحب پر کیا کہتی ہیں پرانی کتابیں؟
یہ مضمون خواجہ معین الدین چشتی کی شخصیت اور کرامات کے تعلق سے پائی جانے والی بعض بنیادی غلطیوں اور من گھڑت کہانیوں کے حوالے سے لکھا گیا ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خواجہ بزرگ سے منسوب مختلف ادوار کے واقعات کو کس قدر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، چند بنیادی ماخذات کا بھی ذکر کیا گیا ہے تاکہ سوانحی اور تاریخی کتب سے موازنہ کیا جا سکے، نیز تاریخی شواہد کی روشنی میں ان اغلاط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، اس مضمون کا بنیادی مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ ہمیں من گھڑت کہانیوں کے بجائے خواجہ بزرگ کے اعلیٰ اخلاق، محبت، رواداری اور بھائی چارے پر مبنی ان اصل تعلیمات کو عام کرنا چاہیے جو آج آٹھ سو سال گزرنے کے بعد بھی معاشرے کے لیے یکساں طور پر مفید اور اہم ہیں۔
فرید الدین یکتا پر ایک سرسری نظر
ابھی حال کے پچاس برسوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بزرگوں کی نگارشات اور ان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو یکجا کرنے کی ایک وسیع تر تحریک جاری ہے، ہر شخص اپنے اپنے اسلاف و اکابر کی قلمی کاوشوں کو منصۂ شہود پر لانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، تاکہ نئی
’’بہار میں رثائی ادب۔ آغاز وارتقا‘‘
ابھی کچھ مہینے قبل، سلطان آزاد صاحب کی ایک نئی کتاب ’’بہار میں رثائی ادب۔ آغاز و ارتقا‘‘ موصول ہوئی، جو اپنے موضوع کے اعتبار اور معیار سے گراں قدر ہے۔ موصوف نے نہایت تلاش و تحقیق کے بعد یہ قیمتی سرمایہ تیار کیا ہے۔ ۱۵۲؍ صفحات کی کتاب کو آزاد نے چار
’’سرمۂ بینائی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
’’سرمۂ بینائی‘‘ حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری کی اردو زبان میں لکھا ہوا پچیس تیس صفحات پر مشتمل ایک مشہور و معروف رسالہ ہے، اس میں صوفیانہ عقائد مثلاً وحدت الوجود، توحید، فنافی الذات، فنافی الصفات، حقیقت النفس اور توبہ جیسے مہتم بالشان عنوانات
حضرت شاہ اکبر داناپوری اور اکبر الہ آبادی
حضرت شاہ اکبر داناپوری اور اکبر الہ آبادی دونوں ایک ہی استاد کے منتخب یادگار ہیں، دونوں کی طبیعتیں گداز، بندش نفیس، زبان دلچسپ اور فنِ شاعری میں انتہا درجے کی معلومات رکھتے تھے، حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کی ایک غزل کے مقطع سے بھی ان دو حضرات کے تعلق و
’’اصغر کی آہ نالوں کا کیا کیجیے بیاں‘‘
آگرہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر ایک طویل عرصے تک لودھی سلطنت کے عروج کا مرکز رہا اور بعد ازاں مغل حکمرانوں کی محبوب ترین قیام گاہ بھی بنا رہا، تقریباً پانچ سو برس تک یہاں شاہی قافلوں، درباروں اور اقتدار کی رونقیں قائم رہیں،
حضرت ابراہیم زندہ دل اور ان کا خانوادہ
کاکو ساتویں صدی ہجری سے صوفیائے کرام کا مولد و مسکن رہا ہے، یہاں ابتدا ہی سے جلیل القدر اؤلیا و اصفیا کی خانقاہیں اور درگاہیں قائم رہی ہیں، جو بندگانِ خدا میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتی چلی آ رہی ہیں، اسی سلسلے میں حضرت ابراہیم زندہ دل بھی کاکو تشریف
’’سیرِ دہلی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
دہلی ہندوستان کا دار الحکومت ہے جسے مقامی طور پر دِلّی بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا شہر جو کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے، کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ ہوا اور پھر آباد ہوا، سلطنت کے عروج کے ساتھ ہی یہ شہر ایک ثقافتی، تمدنی اور تجارتی مرکز کے
’’آثارِ کاکو‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
تاریخ نویسی و تذکرہ نگاری کا ذوق و شوق شروع سے قائم رہا ہے۔ اس سلسلے میں اربابِ قلم نے جزیرۃ العرب کے حالات و مقامات کا ذکر شروع کیا اور چھوٹی بڑی کتابیں لکھ ڈالیں مگر ان میں کچھ شائع ہوئی اور کچھ ضائع ہوئی بقیہ تلف ہوئی، یہ کام سب سے پہلے عربی زبان
ذکر خیر حضرت شاہ ایوب ابدالی نیر اسلام پوری
بہار کی سرزمین ہمیشہ سے مردم خیز رہی ہے۔ یہاں بے شمار علم و ادب اور فقروتصوف کی شخصیات نے جنم لیا۔ انہی میں ایک نام حضرت سید علیم الدین دانشمند گیسودراز کا ہے، جو شہر نیشاپور (ایران) سے منتقل ہوکر ہندوستان کے پرگنہ بہار شریف (ضلع نالندہ) آئے۔ انہوں نے
تذکرہ خان بہادر شاہ محمد کمال عظیم آبادی
آپ شاہ مبارک حسین مبارکؔ کے بڑے صاحبزادے اور شاہ نورالرحمٰن عرف لعل کے بھتیجے ہیں، عظیم آباد کا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو خان بہادر شاہ محمد کمالؔ کی شخصیت اور ان کے کارنامے سے واقف نہ ہو، لودی کٹرہ میں کمال روڈ اور شاہ کمال کی مسجد اب آپ کی آخری
ذکر خیر حضرت پیر نصیرالدین نصیر
حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ معروف شاعر، ادیب، محقق، خطیب، عالم اور گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشیں تھے، آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے، اس کے علاوه عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے ہیں، اسی وجہ سے انہیں "شاعرِ ہفت زبان"
لکھنؤ کا سفرنامہ
لکھنؤ کے متعلق برج نرائن چکبستؔ نے بہت پہلے ایک ایسا شعر کہا تھا جو آج بھی اس شہر کے ماضی کی دھندلی مگر پررونق تصویر آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ زبانِ حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے مٹایا گردشِ افلاک نے جاہ و حشم میرا یہ شعر صرف ایک جملۂ ماتم
حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری اور ’’ہنرنامہ‘‘
خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے معروف سجادہ نشیں اور عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ محمد اکبر داناپوری بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، ان کی حیثیت بیک وقت ایک درویش کامل، خدامست، سجادہ نشیں، امیر سخن، مذہبی رہنما اور حب الوطنی سے سرشار فلسفی اور مجاہدِ وقت
بہار کے قوال اور قوالی کا پسِ منظر
قوالی قول سے ماخوذ ہے، اس کے گانے والے کو قوال کہتے ہیں، قول سے مراد قولِ رسولِ اکرم ہے جو کہ آپ نے حضرت علی مرتضیٰ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’’جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کا علی بھی مولی ہے " حضرت امیر خسرو نے قوالی جیسی پاکیزہ صنف کا آغاز کیا، تبھی
ذکرِ خیر حضرت نثارعلی اکبرآبادی
چودھویں صدی ہجری میں ہندوستان کی سرزمین سے کئی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنی کردار و عمل اور اپنے قلم سے تاریخ میں نام پیدا کیا۔ شعر و سخن کا جب تذکرہ چھڑتا ہے تو اکبرآباد کا تذکرہ سرفہرست نظر آتا ہے، میر ہوں یا غالب، نظیر ہوں یا شہید، سبھوں
ہے شہرِ بنارس کی فضا کتنی مکرم
سفر دراصل خدا کو پالینے کا سب سے بہتر وسیلہ ہے، جتنا زیادہ انسان سفر کرتا ہے، اتنا ہی وہ خدا کے وجود اور اس کی قدیم و ازلی ہستی کا قائل ہوتا جاتا ہے، راستے کے مناظر، اجنبی چہروں کی مسکراہٹیں، مقامات کی تاریخ اور زمانے کے نشانات، یہ سب مل کر انسان کو
جوہر نوری: ایک بہترین شاعر
جوہرؔ نوری اردو شاعری کی دنیا کا ایک معروف اور قابل احترام نام ہیں، جنہوں نے چار دہائیوں سے گلستانِ سخن کو آباد رکھا ہے۔ یہ موروثی شاعر ہیں اور ان کے آباؤ اجداد، خصوصاً والد نورؔ نوحی، بہار کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے تھے۔ جوہرؔ کی تربیت اور تلمذ
گوالیار سے بھنڈ تک کا سفر نامہ
ہندوستان کا ہر شہر اپنے اندر ان گنت تاریخی قصے، کہانیاں اور آثار سمیٹے ہوئے ہے۔ جہاں بھی جائیں، ایک نایاب قصہ، روایت یا نشانی ضرور ملتی ہے۔ مستند واقعات کے ساتھ ساتھ یہاں Mythology کا بھی گہرا دخل ہے، اس لیے ہر کہانی پر غور و فکر اور چھانٹ پرکھ کرنا
’’شرف البیاض‘‘ ایک تاریخی کارنامہ
شرف البیاض حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے مکتوبات و ملفوظات اور تصنیفات میں استعمال ہونے والے اشعار کا مجموعہ ہے، جسے محترمی و معظمی جناب معلی القاب سیّد شاہ عابد علی شرفی الفردوسی صاحب نے بڑی مشقت و جانفشانی کے ساتھ جمع فرمایا ہے۔ حضرت
’’گل سخن‘‘ پر اک سرسری نظر
فون کی گھنٹی بجی، سلام و دعا کے بعد معلوم ہوا کہ محترم ڈاکٹر سید شاہ علی اختر صفدرؔ ہاشمی صاحب مخاطب ہیں، جو معروف شاعر و مصنف ڈاکٹر سید شاہ اظہارالحسن اظہرؔ ہاشمی کے صاحبزادۂ گرامی ہیں، گفتگو نہایت خوشگوار اور ادبی رنگ میں رنگی ہوئی رہی، اسی دوران
ذکر خیر خواجہ رکن الدین عشق
اس بر صغیر میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کا فیضان اور مقبولیت اِس قدر ہوئی کہ ہر خانقاہ سے اس کا فیض جاری و ساری رہا۔ سلسلۂ ابوالعلائیہ کے بانیٔ مبانی، محبوب جل و علا حضرت سیدنا شاہ امیر ابوالعلاء اکبرآبادی قدس سرہ، متوفیٰ 1061ھ ہیں۔ یہ سلسلہ دراصل نقشبندیہ
درگاہیں: روح کی پناہ گاہیں یا بازار کی رونق؟
دنیا کی تھکی ہوئی روحوں کے لیے درگاہیں ہمیشہ سے ایک ایسا سایہ دار شجر رہی ہیں جہاں محبت، امن اور بھائی چارے کی ٹھنڈی چھاؤں میسر آتی تھی، جب زندگی کے تھپیڑے تھکا دیتے تھے، جب حسرتیں آنکھوں میں تیرتی تھیں اور دل غم کے بوجھ تلے دب جاتا تھا، تب لوگ کسی درگاہ
’’روح سماع‘‘ ایک لاجواب کارنامہ
جناب ڈاکٹر شاہ التفات امجدی (خانقاہ امجدیہ، سیوان) کی مرتب کردہ کتاب مستطاب ’’روح سماع‘‘ شمارِ بہترین کتب میں کی جاسکتی ہے، کیونکہ یہ نہایت خوبصورت انداز میں سماع میں پڑھے جانے والے اشعار کا لاجواب انتخاب پیش کرتی ہے۔ سماع (صوفیانہ قوالی) ایک ایسی روحانی
ذکر خیر حضرت شاہ محسن ابوالعلائی داناپوری
بہار کی سرزمین سے ناجانے کتنے لعل و گہر پیدا ہوئے اور زمانے میں اپنے شاندار کارنامے سے انقلاب پیدا کیا، ان میں شعرا، علما، صوفیا اور سیاسی رہنما سب شامل ہیں جب ضرورت پڑی تو قوم کی بلندی کی خاطر سیاست میں اترے، مذہب پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو بحیثیت عالمِ
ذکر خیر حضرت شاہ عزیز الدین حسین منعمی
صوبۂ بہار کا دارالسلطنت عظیم آباد نہ صرف معاشی و سیاسی اور تاریخی لحاظ سے ممتاز رہا ہے بلکہ اپنے علم و عمل، اخلاق و اخلاص، اقوال و افعال، گفتار و بیان اور معرفت و ہدایات سے کئی صدیوں کو روشن کیا ہے۔ یہاں اولیا و اصفیا کی کثرت ہے، بندگانِ خدا کی وحدت