ریان ابوالعلائی کے مضامین
ذکر خیر حضرت مولانا عبدالمجید ابوالعلائی افغانی
حضرت مولانا عبدالمجید ابوالعُلائی کا تعلق افغانستان کےسرحدی قبائل میں قبیلہ اُتمان خیل سےہے، یہ خیبرپختونخواکےضلع باجوڑمیںآتاہے،اُتمان خیل قوم پٹھانوں کا ایک مشہور قبیلہ ہے جس کی مردانگی اور بہادری رطب اللسان ہیں،ا س قوم کا بنیادی تعلق خراسان کےعلاقہ
نصرت فتح علی خاں مہد سے لحد تک
’’سہرا یہ حقیقت کا نصرتؔ کو سنانے دو‘‘ نصرت فتح علی خاں پاکستان کے بڑے قوال، موسیقار، موسیقی ڈائریکٹر اور بنیادی طور پر قوالی کے گلوکار تھے، نصرت کو اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے قوالی کے گلوکار کے طور پر جانا جاتا ہے، انہوں
فرید الدین یکتا پر ایک سرسری نظر
ابھی حال کے پچاس برسوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بزرگوں کی نگارشات اور ان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو یکجا کرنے کی ایک وسیع تر تحریک جاری ہے، ہر شخص اپنے اپنے اسلاف و اکابر کی قلمی کاوشوں کو منصۂ شہود پر لانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، تاکہ نئی
تبصرہ : ’’حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری شطاری حیات و خدمات‘‘
زیرِ نظر کتاب ’’حضرت شاہ محمد غوث گوالیاری شطاری: حیات و خدمات‘‘ محبی مولانا محمد محسن خاں زاد محبتہ کی تصنیفِ لطیف ہے، زمانۂ طفلی ہی سے شیخ محمد غوث شطاری اور خواجہ خانون کے کارنامے اپنے بزرگوں سے سنتا آ رہا ہوں، کیوں کہ گوالیار کو قدیم زمانے سے صوفیائے
تبصرہ : ’’بہار میں رثائی ادب آغاز وارتقا‘‘
ابھی کچھ مہینے قبل سلطان آزاد صاحب کی ایک نئی کتاب ’’بہار میں رثائی ادب- آغاز و ارتقا‘‘ موصول ہوئی جو اپنے موضوع کے اعتبار اور معیار سے گراں قدر ہے، موصوف نے نہایت تلاش و تحقیق کے بعد یہ قیمتی سرمایہ تیار کیا ہے، ۱۵۲؍ صفحات کی کتاب کو آزاد نے چار
حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ
بہار میں جن خانوادوں سے تصوف کو فروغ ملا ان میں حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ نمایاں کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے یہاں روحانیت اور اس کی عظمت کا ایسا سلسلہ قائم کیا جس کی چمک تقریباً تین صدیوں پر محیط ہے، کسے پتا تھا کہ بہار شریف میں ملّا
تبصرہ : ’’مخ المعانی‘‘
کتابیں محض کاغذ، قلم اور سیاہی کا امتزاج نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایک زندہ اور متحرک تہذیب، علم، حکمت، عرفان اور روحانیت کا آئینہ ہوتی ہیں، یہ انسانی شعور کی ارتقائی منازل کی گواہ ہوتی ہیں اور ذہن و دل کو جلا بخشنے کا ایک دیرپا ذریعہ بن جاتی ہیں، ایک مہذب
ذکر خیر حضرت حسن جان شہسرامی
ہمارے صوبۂ بہار میں شہسرام کونمایاں مقام حاصل ہے،یہاں اؤلیاو اصفیا اور شاہان زمانہ کی کثرت ہے، اس بات سے کسی کو انکار نہیںکہ شہسرام کی بلندی شیر خاں سوری (متوفیٰ ۱۵۴۵ء)سے ہے، دیکھنے والوں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے نوابین اور شاہان زمانہ حکمرانی کرکے
جوہر نوری: ایک بہترین شاعر
جوہرؔ نوری اردو شاعری کی دنیا کا ایک معروف اور قابل احترام نام ہیں، جنہوں نے چار دہائیوں سے گلستانِ سخن کو آباد رکھا ہے۔ یہ موروثی شاعر ہیں اور ان کے آباؤ اجداد، خصوصاً والد نورؔ نوحی، بہار کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے تھے۔ جوہرؔ کی تربیت اور تلمذ
سفرنامہ : گوالیار سے بھنڈ تک
ہندوستان کا ہر شہر اپنے اندر ان گنت تاریخی قصے، کہانیاں اور آثار سمیٹے ہوئے ہے، جہاں بھی جائیں ایک نایاب قصہ، روایت یا نشانی ضرور ملتی ہے، مستند واقعات کے ساتھ ساتھ یہاں Mythology کا بھی گہرا دخل ہے، اس لیے ہر کہانی پر غور و فکر اور چھانٹ پرکھ کرنا
ذکر خیر حضرت شاہ عزیزالدین حسین منعمی
صوبۂ بہار کا دارالسلطنت عظیم آباد نہ صرف معاشی و سیاسی اور قدیمی لحاظ سے ممتاز رہاہے بلکہ اپنے علم و عمل ،اخلاق و اخلاص ،اقوال وا فعال ،گفتار و بیان اور معرفت و ہدایات سے کئی صدیوں کو روشن کیا ہے، یہاں اؤلیا واصفیاکی کثرت ہے، بندگان خدا کی وحدت ہے،
حضرت مخدومِ جہاں کے شعری ذوق کا نادر مرقع ’’شرف البیاض‘‘
شرف البیاض حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے مکتوبات و ملفوظات اور تصنیفات میں استعمال ہونے والے اشعار کا مجموعہ ہے، جسے معظمی جناب معلیٰ القاب سیّد شاہ عابد علی شرفی الفردوسی نے بڑی مشقت و جانفشانی کے ساتھ جمع فرمایا ہے۔ حضرت مخدوم
تبصرہ : ’’گلِ سخن‘‘
فون کی گھنٹی بجی، سلام و دعا کے بعد معلوم ہوا کہ ڈاکٹر سیّد علی اختر صفدرؔ ہاشمی مخاطب ہیں، جو معروف شاعر و مصنف ڈاکٹر سیّد شاہ اظہارالحسن اظہرؔ ہاشمی کے صاحبزادۂ گرامی ہیں، گفتگو نہایت خوشگوار اور ادبی رنگ میں رنگی ہوئی رہی، اسی دوران انہوں نے خوش خبری
ذکر خیر حضرت رکن الدین عشقؔ
برصغیر میں سلسلۂ بوالعلائیہ کا فیضان اور مقبولیت اس طور پر عام ہوئی کہ متعدد خانقاہوں سے اس کا روحانی اثر جاری و ساری رہا، اس سلسلۂ ابوالعلائیہ کے بانیٔ مبانی محبوبِ جل و علا حضرت سیّدنا امیر ابوالعلا (متوفیٰ ۱۰۶۱ھ) ہیں، اور یہ سلسلہ دراصل نقشبندیہ
ذکر خیر حضرت شاہ محمد محسن ابوالعُلائی داناپوری
بہارکی سرزمین سے ناجانے کتنے لعل و گہر پیدا ہوئے اور زمانے میں اپنے شاندارکارنامے سے انقلاب پیداکیا ان میں شعرا،علما،صوفیا اور سیاسی رہنما سب شامل ہیں جب ضرورت پڑی تو قوم کی بلندی کی خاطر سیاست میں اُترے ،جب مذہب پر انگلیاں اٹھنے لگیں تو بحیثیت عالمِ
درگاہیں-روح کی پناہ گاہیں یا بازار کی رونق؟
دنیا کی تھکی ہوئی روحوں کے لیے درگاہیں ہمیشہ سے ایک ایسا سایہ دار شجر رہی ہیں جہاں محبت، امن اور بھائی چارے کی ٹھنڈی چھاؤں میسر آتی تھی، جب زندگی کے تھپیڑے تھکا دیتے تھے، جب حسرتیں آنکھوں میں تیرتی تھیں اور دل غم کے بوجھ تلے دب جاتا تھا، تب لوگ کسی
مظہرالحق - آزادیِ وطن کا بے باک سپاہی
۱۸۵۷ء میں فرزندانِ ہندوستان نے انگریزی حکومت سے ملک کو آزاد کرانا چاہا لیکن ہندوستان انگریزوں سے اس لیے آزاد نہ ہوسکا کہ اس ہندوستانیوں میں میل نہ تھا، ذات و برادری، حسب و نسب کی کھینچا تانی اپنے عروج پر تھی، ۱۸۵۷ء کے بغاوت کے نو برس بعد بہار کی سرزمین
ذکر خیر حضرت شاہ احمد حسین چشتی شیخ پوروی
شیخ پورہ خرد چشتیوں کی قدیم آماجگاہ ہے مگر یہاں قادری ،سہروردی اور ابوالعُلائی بزرگ بھی آرام فرماہیں،تذکرے اور تاریخ کے حوالے سے یہ جگہ حضرت تاج محمود حقانی (تاریخِ وصال۱۴ ؍جمادی الاخر)سے عبارت ہے ۔ نویں صدی ہجری میں حضرت خواجہ سیّد عبداللہ چشتی
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ تقی الدین فردوسی
پندرہویں صدی ہجری میں صوبۂ بہار کو یہ شرف حاصل ہوا کہ یہاں کی مٹی سے کثیر تعداد میں صاحبان علم و دانش نمودار ہوئے جن کے علم و تفقہ اور مسائل و معاملات کا ایک زمانہ قائل ہے، دینی معاملات ہو یا دینی معلومات ہر فن کے افراد یہاں سر فہرست نظر آتے ہیں۔ بہار
لکھنؤ کا سفرنامہ
لکھنؤ کے متعلق برج نرائن چکبستؔ نے بہت پہلے ایک ایسا شعر کہا تھا جو آج بھی اس شہر کے ماضی کی دھندلی مگر پُر رونق تصویر آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ زبانِ حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے مٹایا گردشِ افلاک نے جاہ و حشم میرا یہ شعر صرف ایک جملۂ
حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری اور ’’ہنرنامہ‘‘
خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ ،داناپور کے معروف سجادہ نشیں اور عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، ان کی حیثیت بیک وقت ایک درویش کامل،خدامست،سجادہ نشیں،امیرسخن،مذہبی رہنمااور حب الوطنی سے سرشار فلسفی اور مجاہد
بہار کے قوال اور قوالی کا پسِ منظر
قوالی ’’قول سے ماخوذ ہے، اس کے گانے والے کو قوال کہتے ہیں، قول سے مراد قولِ رسولِ اللہ ہے جو کہ آپ نے حضرت علی مرتضیٰ کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’’جس کا میں مولیٰ ہوں، اس کا علی بھی مولی ہے‘‘ حضرت امیر خسروؔ نے قوالی جیسی پاکیزہ صنف کا آغاز
ذکر خیر حضرت سیدنا امیر ابوالعلا
دین اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام کا کردار فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے مخلوق خدا کے سامنے اپنے قول کی بجائے اپنی شخصیت اور کردار کو پیش کیا، انہوں نے انسانوں کی نسل، طبقاتی اور مذہبی تفریق کو دیکھے بغیر ان سے شفقت و محبت کا معاملہ رکھا
خواجہ صاحب پر کیا کہتی ہیں پرانی کتابیں؟
یہ مضمون خواجہ معین الدین چشتی کی شخصیت اور کرامات کے تعلق سے پائی جانے والی بعض بنیادی غلطیوں اور من گھڑت کہانیوں کے حوالے سے لکھا گیا ہے، اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خواجہ بزرگ سے منسوب مختلف ادوار کے واقعات کو کس قدر توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، چند بنیادی ماخذات کا بھی ذکر کیا گیا ہے تاکہ سوانحی اور تاریخی کتب سے موازنہ کیا جا سکے، نیز تاریخی شواہد کی روشنی میں ان اغلاط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے، اس مضمون کا بنیادی مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ ہمیں من گھڑت کہانیوں کے بجائے خواجہ بزرگ کے اعلیٰ اخلاق، محبت، رواداری اور بھائی چارے پر مبنی ان اصل تعلیمات کو عام کرنا چاہیے جو آج آٹھ سو سال گزرنے کے بعد بھی معاشرے کے لیے یکساں طور پر مفید اور اہم ہیں۔
’’سرمۂ بینائی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
’’سرمۂ بینائی‘‘ حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری کی اردو زبان میں لکھا ہوا پچیس تیس صفحات پر مشتمل ایک مشہور و معروف رسالہ ہے، اس میں صوفیانہ عقائد مثلاً وحدت الوجود، توحید، فنافی الذات، فنافی الصفات، حقیقت النفس اور توبہ جیسے مہتم بالشان عنوانات
حضرت شاہ اکبر داناپوری اور اکبر الہ آبادی
حضر ت شاہ اکبرؔ داناپوری اور اکبرؔالہ آبادی دونوں ایک ہی استاد کے منتخب یادگار ہیں ،دونوں کی طبیعتیں گداز،بندش نفیس،زبان دلچسپ،قابلیت فنِ شاعری میں انتہا درجے کی معلومات رکھتے تھے۔ حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کی ایک غزل کے مقطع سے بھی ان دو نوں کے تعلق
ذکر خیر حضرت امجد علی قادری اصغرؔ اکبرآبادی
آگرہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر ایک طویل عرصے تک لودھی سلطنت کے عروج کا مرکز رہا اور بعد ازاں مغل حکمرانوں کی محبوب ترین قیام گاہ بھی بنا رہا، تقریباً پانچ سو برس تک یہاں شاہی قافلوں، درباروں اور اقتدار کی رونقیں قائم رہیں مگر
حضرت ابراہیم زندہ دل اور ان کا خانوادہ
کاکو ساتویں صدی ہجری سے صوفیائے کرام کا مولد و مسکن رہا ہے، یہاں ابتدا ہی سے جلیل القدر اؤلیا و اصفیا کی خانقاہیں اور درگاہیں قائم رہی ہیں، جو بندگانِ خدا میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتی چلی آ رہی ہیں، اسی سلسلے میں حضرت ابراہیم زندہ دل بھی کاکو تشریف
’’سیرِ دہلی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
دہلی ہندوستان کا دار الحکومت ہے جسے مقامی طور پر دِلّی بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا شہر جو کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دار الحکومت رہا ہے، کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ ہوا اور پھر آباد ہوا، سلطنت کے عروج کے ساتھ ہی یہ شہر ایک ثقافتی، تمدنی اور تجارتی مرکز کے
’’آثارِ کاکو‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
تاریخ نویسی و تذکرہ نگاری کا ذوق و شوق شروع سے قائم رہا ہے۔ اس سلسلے میں اربابِ قلم نے جزیرۃ العرب کے حالات و مقامات کا ذکر شروع کیا اور چھوٹی بڑی کتابیں لکھ ڈالیں مگر ان میں کچھ شائع ہوئی اور کچھ ضائع ہوئی بقیہ تلف ہوئی، یہ کام سب سے پہلے عربی زبان
ذکر خیر حضرت شاہ ایوب ابدالی نیرؔ اسلام پوری
بہارکی سرزمین ہمیشہ سے مردم خیز رہی ہے، ناجانے کتنے علم و ادب اور فقر و تصوف کی شخصیت نے جنم لیا ہے انہیں میں ایک نام حضرت سیّد علیم الدین دانشمند گیسودراز کا ہے یہ نیشاپور سے منتقل ہوکر بہار شریف حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ۷۸۲ھ)
تذکرہ خان بہادر شاہ محمد کمال عظیم آبادی
آپ شاہ مبارک حسین مبارکؔ کے بڑے صاحبزادے اور شاہ نورالرحمٰن عرف لعل کے بھتیجے ہیں، عظیم آباد کا شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو خان بہادر شاہ محمد کمالؔ کی شخصیت اور ان کے کارنامے سے واقف نہ ہو، لودی کٹرہ میں کمال روڈ اور شاہ کمال کی مسجد اب آپ کی آخری
ذکر خیر حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ
حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ معروف شاعر، ادیب، محقق، خطیب، عالم اور گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشیں تھے، آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے، اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہتے تھے، اسی وجہ سے انہیں ’’شاعرِ ہفت
تبصرہ : ’’روحِ سماع‘‘
خانقاہ امجدیہ، سیوان کے ڈاکٹر شاہ التفات امجدی کی مرتب کردہ کتابِ مستطاب ’’روحِ سماع‘‘ کو شمارِ بہترین کتب میں کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ یہ نہایت خوب صورت انداز میں سماع میں پڑھے جانے والے اشعار کا ایک لاجواب انتخاب پیش کرتی ہے۔ سماع ایک ایسی روحانی
ذکر خیر حضرت شاہ عبدالجلیل اشرفی کاکوی
کاکو بستی بہت قدیم ہے، بہار میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے یہاں ہنود کی آبادی تھی اور یہاں کوئی راجہ یا بڑا زمیندار برسراقتدار تھا، پُرانے ٹیلے اور اگلے وقتوں کی اینٹیں جو کھدائی میں برآمد ہوتی رہیں وہ اس بات کی شاہد ہیں، یہ جگہ حضرت شیخ سلیمان لنگر
ذکر خیر حضرت شاہ محمد کبیر ابوالعُلائی داناپوری
داناپور میں ایسی ایسی قدآورشخصیات، صاحبِ اعلیٰ اقدار و افکار بہترین گفتار و کردار کے حامل اور قابل غبطہ و رشک ہستیاں پیدا ہوئیں جن کے اوصافِ جمیلہ، خدماتِ عظیمہ، ساعی بلیغ اور اشاعتِ اسلام کی سربلندی کے لیے ان کی کد و کاوش کے ترانے باشندگانِ ملک گا
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ مراداللہ فردوسی منیری
منیر شریف صوبۂ بہار کی پہلی روشن گاہ ہے، بہار میں اسلام کی شمع یہیں سے پھوٹی، ۵۷۶ھ میں امام محمد تاج فقیہ کا یہاں آنا اور امن و محبت اور انسان دوستی کا ماحول قائم کرنا یہ سب بارگاہِ رسالت ﷺ سے اشارہ تھا، آپ ہاشمی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، آپ کا
ذکر خیر حضرت مولانا سیّد نثار علی ابوالعُلائی اکبرآبادی
چودھویں صدی ہجری میں ہندوستان کی سرزمین سے کئی ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنی کردار و عمل اور اپنے قلم سے تاریخ میں نام پیداکیا ،شعر و سخن کا جب تذکرہ چھڑتا ہے تو اکبرآباد کاتذکرہ سرفہرست نظر آتا ہے ،میرؔ ہوں یا غالبؔ ،نظیرؔ ہوں یا شہیدؔ سبھوں
حضرت شاہ اکبر داناپوری کا تاریخی سفر حج
عرب اس ملک کا نام ہے جو ایک جزیرہ نما کی صورت میں واقع ہوا اور ہمارے داناپور سے سیدھا مغرب کی طرف ہے اس کی زمین پتھریلی اور ریگستانی ہے، اس میں پہاڑ بہت ہیں مگر بلند نہیں خصوصاًاس ملک میں تین ایسے شہر ہیں جس میں سوائے مسلمانوں کے دوسرا کوئی مذہب نہیں۔ (۱)
ذکر خیر حضرت امجد حسین نقشبندی
ہندوستان میں خانقاہیں اور بارگاہیں کثرت سے وجود میں آئیں جہاں شب و روز بندگانِ خداکوتعلیم وتلقین دی جاتی رہی،ان متبرک خانقاہوں میں بعض ایسی بھی خانقاہیں ہوئیں جو متانت و سنجیدگی اور سادگی و سخاوت کا مجسمہ ثابت ہوئیں، روحانیت و معرفت کاخاص خیال رکھنےوالی
ذکر خیر حضرت شاہ نظیر حسن ابوالعُلائی داناپوری
زندگی کے مختلف گوشہ ہائے حیات میں کچھ شخصیات اپنی انفرادی خوبیوں کے سبب نمایاں ہوتی ہیں مگر ان میں بعض ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو دوسروں کی خوشی اور کمال میں اپنی خوشی محسوس کرتی ہیں، طریقت میں مرید کی حقیقی معراج اس وقت ہوتی ہے جب پیرِ مغاں کی تعلیمِ
ذکر خیر حضرت شیخ محمد ادریس چشتی ارریاوی
حضرت شیخ محمدادریس چشتی ابوالعُلائی جامع علوم وفنون،پاکیزہ اخلاق،ستودہ صفات اورزاہدانہ افعال سےمتصف تھے،چودھویں صدی ہجری میںآپ ہی کی ذات با برکات سے ارریہ میں خداشناسی کی انجمن کورونق اورادعیات ووظائف کوعظمت حاصل تھی، بڑے شب بیدار،عابدوزاہد،عاجزنواز،بےیاروںکےیار،کمزوروںکےقوتِ