Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Salam Sandelvi's Photo'

سلام سندیلوی

1919 - 2000 | گورکھپور, انڈیا

ممتاز نقاد، محقق و شاعر

ممتاز نقاد، محقق و شاعر

سلام سندیلوی کا تعارف

تخلص : 'سلام'

اصلی نام : عبدالسلام

پیدائش : 25 Feb 1919 | سندیلہ, اتر پردیش

وفات : 17 Sep 2000 | گورکھپور, اتر پردیش

LCCN :n81055709

آئے جو چند تنکے قفس میں صبا کے ساتھ

میں نے انہیں کو اپنا نشیمن سمجھ لیا

شناخت: ممتاز نقاد، محقق و شاعر

ڈاکٹر عبدالسلام سندیلوی، جنہیں ادبی دنیا میں سلام سندیلوی کے نام سے جانا جاتا ہے، 25 فروری 1919ء کو اودھ کے تاریخی قصبہ سندیلہ کے قریب واقع گاؤں کرنا میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منشی بختاور علی محکمۂ پولیس میں ملازم تھے اور تعلیم کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ اسی شعور کے تحت انہوں نے اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد سلام سندیلوی کا داخلہ سندیلہ کے خانقاہ اسکول میں کرایا گیا، جہاں سے انہوں نے 1930ء میں درجہ چہارم پاس کیا۔ بعد ازاں ٹاؤن اسکول سندیلہ سے اردو مڈل اور انگریزی درجہ ششم کے امتحانات کامیابی سے مکمل کیے۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ لکھنؤ منتقل ہوئے، جہاں امیر الدولہ اسلامیہ اسکول سے 1937ء میں ہائی اسکول اور کرسچین کالج لکھنؤ سے 1939ء میں انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔ انہوں نے 1942ء میں گورنمنٹ ٹریننگ کالج لکھنؤ سے سی ٹی کی تربیت حاصل کی، پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے، ایل ایل بی، ایم اے اردو، ایم اے تاریخ اور بعد ازاں ایم اے فارسی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1957ء میں ’’اردو رباعیات‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی مکمل کی اور 1964ء میں ’’اردو شاعری میں منظر نگاری‘‘ کے موضوع پر ڈی لِٹ کی ڈگری حاصل کی۔

سلامؔ سندیلوی نے عملی زندگی کا آغاز تدریس سے کیا۔ ابتدا میں فیضِ عام اسکول کانپور، انڈسٹریل اسکول لکھنؤ اور موہن لال موریہ اسکول سے وابستہ رہے۔ 1948ء میں سنی ہائر سیکنڈری اسکول لکھنؤ کے پرنسپل مقرر ہوئے، جہاں تقریباً دس برس خدمات انجام دیں۔ 1959ء میں گورکھپور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچرار مقرر ہوئے اور بعد ازاں ریڈر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ گورکھپور ہی ان کی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔

سلامؔ سندیلوی بیک وقت شاعر، نقاد، محقق اور معلم تھے۔ شاعری کا آغاز 1940ء میں کیا اور بعد ازاں مولانا افقر موہانی وارثی کے شاگرد ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’ساغر و مینا‘‘، ’’نکہت و نور‘‘، ’’شام و شفق‘‘، ’’رقصِ جام‘‘ اور بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ’’تتلیاں‘‘ شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ، فکری سنجیدگی اور جمالیاتی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔

تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی سلام سندیلوی نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی اہم نثری تصانیف میں ’’ادب کا تنقیدی مطالعہ‘‘، ’’ادبی اشارے‘‘، ’’اردو رباعیات‘‘، ’’گنجینۂ معلومات‘‘، ’’ذخیرۂ معلومات‘‘ اور ’’کعبہ میں صنم خانہ‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے ادبی و تنقیدی مسائل پر نہایت سادہ مگر عالمانہ اسلوب میں اظہارِ خیال کیا۔ ان کی تنقید علمی استدلال، شفاف زبان اور متوازن فکر کی آئینہ دار ہے۔

سلامؔ سندیلوی نے’’تاریخِ ادبیات گورکھپور‘‘ بھی لکھی جس میں گورکھپور کی ادبی تاریخ اور وہاں کے ادبا و شعرا کا تذکرہ ہے۔ نیز’’قیدِ حیات‘‘ کے نام سے اپنی خودنوشت تحریر کی، جس میں ان کی ذاتی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے علمی و ادبی ماحول کی جھلک بھی ملتی ہے۔

وفات: سلام سندیلوی کا انتقال 17 ستمبر 2000ء کو گورکھپور میں ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے