ذیشان ساحل
غزل 14
نظم 130
اشعار 13
میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں
تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو
ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کھڑکی کے رستے سے لایا کرتا ہوں
میں باہر کی دنیا خالی کمرے میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے
وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیں
اور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی خوش نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے