آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا

نوشاد علی

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا

نوشاد علی

MORE BYنوشاد علی

    آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا

    گزرو گے شہر سے تو مرا گھر بھی آئے گا

    اچھی نہیں نزاکت احساس اس قدر

    شیشہ اگر بنوگے تو پتھر بھی آئے گا

    سیراب ہو کے شاد نہ ہوں رہروان شوق

    رستے میں تشنگی کا سمندر بھی آئے گا

    دیر و حرم میں خاک اڑاتے چلے چلو

    تم جس کی جستجو میں ہو وہ در بھی آئے گا

    بیٹھا ہوں کب سے کوچۂ قاتل میں سرنگوں

    قاتل کے ہاتھ میں کبھی خنجر بھی آئے گا

    سرشار ہو کے جا چکے یاران مے کدہ

    ساقی ہمارے نام کا ساغر بھی آئے گا

    اس واسطے اٹھاتے ہیں کانٹوں کے ناز ہم

    اک دن تو اپنے ہاتھ گل تر بھی آئے گا

    اتنی بھی یاد خوب نہیں عہد عشق کی

    نظروں میں ترک عشق کا منظر بھی آئے گا

    روداد عشق اس لیے اب تک نہ کی بیاں

    دل میں جو درد ہے وہ زباں پر بھی آئے گا

    جس دن کی مدتوں سے ہے نوشادؔ جستجو

    کیا جانے دن ہمیں وہ میسر بھی آئے گا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY