آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھا

کیفی وجدانی

آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھا

کیفی وجدانی

MORE BY کیفی وجدانی

    آئنہ تھا تو جو چہرہ تھا مرا اپنا تھا

    مجھ میں جو عکس بھی اترا تھا مرا اپنا تھا

    وہ جو آہٹ تھی کوئی روپ نہیں دھار سکی

    وہ جو دیوار پہ سایا تھا مرا اپنا تھا

    وہ جو ہونٹوں پہ تپن سی تھی وہ میری ضد تھی

    وہ جو دریاؤں پہ پہرا تھا مرا اپنا تھا

    میرے رستے میں جو رونق تھی میرے فن کی تھی

    میرے گھر میں جو اندھیرا تھا مرا اپنا تھا

    اجنبیت کا وہ احساس تھا میری قسمت

    وہ جو اپنا نہیں لگتا تھا مرا اپنا تھا

    میری سوچوں میں جو منزل تھی میری اپنی تھی

    میرے قدموں میں جو رستہ تھا مرا اپنا تھا

    صرف پانی پہ تو قبضہ تھا میرے دشمن کا

    مجھ میں جو خون کا دجلہ تھا مرا اپنا تھا

    مآخذ:

    • کتاب : ras-Rang(Mehfil-e-Adab) (Pg. 8)
    • اشاعت : 2001

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY