آنکھوں کے بند باب لیے بھاگتے رہے

آشفتہ چنگیزی

آنکھوں کے بند باب لیے بھاگتے رہے

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    آنکھوں کے بند باب لیے بھاگتے رہے

    بڑھتے ہوئے عتاب لیے بھاگتے رہے

    سونے سے جاگنے کا تعلق نہ تھا کوئی

    سڑکوں پہ اپنے خواب لیے بھاگتے رہے

    فرصت نہیں تھی اتنی کہ پیروں سے باندھتے

    ہم ہاتھ میں رکاب لیے بھاگتے رہے

    تیزی سے بیتتے ہوئے لمحوں کے ساتھ ساتھ

    جینے کا اک عذاب لیے بھاگتے رہے

    کچھ زندگی کی وجہ سمجھ میں نہ آ سکی

    سوچوں کا اک نصاب لیے بھاگتے رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY