آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں

عزیز نبیل

آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں

    بنیاد ایک خواب کی ڈالے ہوئے تو ہیں

    تلوار گر گئی ہے زمیں پر تو کیا ہوا

    دستار اپنے سر پہ سنبھالے ہوئے تو ہیں

    اب دیکھنا ہے آتے ہیں کس سمت سے جواب

    ہم نے کئی سوال اچھالے ہوئے تو ہیں

    زخمی ہوئی ہے روح تو کچھ غم نہیں ہمیں

    ہم اپنے دوستوں کے حوالے ہوئے تو ہیں

    گو انتظار یار میں آنکھیں سلگ اٹھیں

    راہوں میں دور دور اجالے ہوئے تو ہیں

    ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیلؔ

    اک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

    RECITATIONS

    عزیز نبیل

    عزیز نبیل

    عزیز نبیل

    آنکھوں کے غم کدوں میں اجالے ہوئے تو ہیں عزیز نبیل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY