آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

ماجد دیوبندی

آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

ماجد دیوبندی

MORE BYماجد دیوبندی

    آسماں کی رفعتوں سے طرز یاری سیکھ لو

    سر اٹھا کر چلنے والو خاکساری سیکھ لو

    پیش خیمہ ہیں تنزل کا تکبر اور غرور

    مرتبہ چاہو تو پہلے انکساری سیکھ لو

    خود بدل جائے گا نفرت کی فضاؤں کا مزاج

    پیار کی خوشبو لٹاؤ مشکباری سیکھ لو

    چن لو قرطاس و قلم یا تیغ کر لو انتخاب

    کوئی فن اپناؤ لیکن شاہکاری سیکھ لو

    پھر تمہارے پاؤں چھونے خود بلندی آئے گی

    سب دلوں پر راج کر کے تاج داری سیکھ لو

    عشق کا میدان آساں تو نہیں ہے محترم

    عشق کرنا ہی اگر ہے غم شعاری سیکھ لو

    جس شجر کی چھاؤں ہو ماجدؔ زمانے کے لئے

    کیسے ہوگی اس شجر کی آبیاری سیکھ لو

    مأخذ :
    • کتاب : Shaakh-e-Dil (Pg. 79)
    • Author : Dr. Majid Deobandi
    • مطبع : Anjum Book Depot, Delhi-6 (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY