آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

قمر جمیل

آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

قمر جمیل

MORE BYقمر جمیل

    آسماں پر اک ستارہ شام سے بیتاب ہے

    میری آنکھوں میں تمہارا غم نہیں ہے خواب ہے

    رات دریا آئینے میں اس طرح آیا کہ میں

    یہ سمجھ کر سو گیا دریا نہیں اک خواب ہے

    کامنی صورت میں بھی اک آرزو ہے محو خواب

    سانولی رنگت میں بھی اک وصل کا کمخواب ہے

    میری خاطر کچھ سنہری سانولی مٹی بھی تھی

    ورنہ اس کا جسم سارا روشنی کا خواب ہے

    آسماں اک بستر سنجاب لگتا ہے مجھے

    اور یہ قوس قزح جیسے کوئی محراب ہے

    کس کے استقبال کو اٹھے تھے دیوانوں کے ہاتھ

    کس کے ماتم کو یہاں یہ مجمع احباب ہے

    یا الہ آباد میں رہیے جہاں سنگم بھی ہو

    یا بنارس میں جہاں ہر گھاٹ پر سیلاب ہے

    اس نہنگ تشنہ سے زور آزما ہو کر جمیلؔ

    بھول مت جانا کہ آگے بھی وہی گرداب ہے

    مأخذ :
    • کتاب : chhaar khvaab (Pg. 115)
    • Author : qamar jameel

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY