آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں

صبا اکرام

آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں

صبا اکرام

MORE BY صبا اکرام

    آواز کے پتھر جو کبھی گھر میں گرے ہیں

    آسیب خموشی کے صباؔ چیخ پڑے ہیں

    پازیب کے نغموں کی وہ رت بیت چکی ہے

    اب سوکھے ہوئے پتے اس آنگن میں پڑے ہیں

    چھپ جائیں کہیں آ کہ بہت تیز ہے بارش

    یہ میرے ترے جسم تو مٹی کے بنے ہیں

    اس دل کی ہری شاخ پہ جو پھول کھلے تھے

    لمحوں کی ہتھیلی پہ وہ مرجھا کے گرے ہیں

    اس گھر میں کسے دیتے ہو اب جا کے صدائیں

    وہ ہارے تھکے لوگ تو اب سو بھی چکے ہیں

    مآخذ:

    • Book: sheerazah (Pg. 163)
    • Author: makhmoor saeedi,Parem Gopal Mittal
    • مطبع: P -K Publication 3072 Partap stareet gola Market -Daryaganj delhi-6 (1973)
    • اشاعت: 1973

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites