اب اپنی چیخ بھی کیا اپنی بے زبانی کیا

عذرا پروین

اب اپنی چیخ بھی کیا اپنی بے زبانی کیا

عذرا پروین

MORE BYعذرا پروین

    اب اپنی چیخ بھی کیا اپنی بے زبانی کیا

    محض اسیروں کی محصور زندگانی کیا

    رتیں جو تو نے اتاری ہیں خوب ہوں گی مگر

    ببول سیج پہ سجتی ہے گل فشانی کیا

    ہے جسم ایک تضادات کے کئی خانے

    کرے گا پر انہیں اک رنگ آسمانی کیا

    ہزار کروٹیں جھنکار ہی سناتی ہیں

    یوں جھٹپٹانے سے زنجیر ہوگی پانی کیا

    زمیں کے اور تقاضے فلک کچھ اور کہے

    قلم بھی چپ ہے کہ اب موڑ لے کہانی کیا

    انا تو قید کی تشہیر سے گریزاں تھی

    پکار اٹھی مگر میری بے زبانی کیا

    میں خشک نخل سی جنگل طویل تیز ہوا

    بکھیر دے گی مجھے بھی یہ بے مکانی کیا

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی,

    عذرا نقوی

    Ab apni cheekh bhi kya apni be-zubani kya عذرا نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے