اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

مظفر وارثی

اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

مظفر وارثی

MORE BY مظفر وارثی

    اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے

    جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے

    سوچتا ہوں کہ اب انجام سفر کیا ہوگا

    لوگ بھی کانچ کے ہیں راہ بھی پتھریلی ہے

    شدت کرب میں ہنسنا تو ہنر ہے میرا

    ہاتھ ہی سخت ہیں زنجیر کہاں ڈھیلی ہے

    گرد آنکھوں میں سہی داغ تو چہرے پہ نہیں

    لفظ دھندلے ہیں مگر فکر تو چمکیلی ہے

    گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجہ

    کس کو معلوم کہ یہ قند بھی زہریلی ہے

    پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے

    اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

    مجھ کو بے رنگ ہی کر دیں نہ کہیں رنگ اتنے

    سبز موسم ہے ہوا سرخ فضا نیلی ہے

    میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھائے

    کیا کروں ذہن مظفرؔ مرا جبریلی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    چترا سنگھ

    چترا سنگھ

    مآخذ:

    • کتاب : Kalam-e- muzaffar warsi (Pg. 152)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY