ابھی تک حوصلہ ٹھہرا ہوا ہے

عبدالصمد تپشؔ

ابھی تک حوصلہ ٹھہرا ہوا ہے

عبدالصمد تپشؔ

MORE BY عبدالصمد تپشؔ

    ابھی تک حوصلہ ٹھہرا ہوا ہے

    نفس کا سلسلہ ٹھہرا ہوا ہے

    رگوں پر آج بھی ہے لرزہ طاری

    نگہ میں حادثہ ٹھہرا ہوا ہے

    فقط قابیل نے بنیاد ڈالی

    ابھی تک سلسلہ ٹھہرا ہوا ہے

    بس اک تار نفس کا ٹوٹنا ہے

    یہی اک حادثہ ٹھہرا ہوا ہے

    نظر کی چوک تھی بس ایک لمحہ

    صدی کا قافلہ ٹھہرا ہوا ہے

    جہاں تک پاؤں میرے جا سکے ہیں

    وہیں تک راستہ ٹھہرا ہوا ہے

    وہ ہم سے روٹھ کر بھی دور کب ہیں

    دلوں کا رابطہ ٹھہرا ہوا ہے

    وہی قاتل وہی منصف بنا ہے

    اسی سے فیصلہ ٹھہرا ہوا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Mata-e-Aainda (Pg. 14)
    • Author : Abdussamad Tapish
    • مطبع : Abdussamad Tapish (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY