ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

فریاد آزر

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

فریاد آزر

MORE BY فریاد آزر

    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

    نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو

    بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

    معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر

    مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

    بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی

    وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

    بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں

    پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

    مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر

    کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY