اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

مجروح سلطانپوری

اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں

    موج کو گیسو بھنور کو چشم جانانہ کہیں

    دار پر چڑھ کر لگائیں نعرۂ زلف صنم

    سب ہمیں باہوش سمجھیں چاہے دیوانہ کہیں

    یار نکتہ داں کدھر ہے پھر چلیں اس کے حضور

    زندگی کو دل کہیں اور دل کو نذرانہ کہیں

    تھامیں اس بت کی کلائی اور کہیں اس کو جنوں

    چوم لیں منہ اور اسے انداز رندانہ کہیں

    سرخی مے کم تھی میں نے چھو لیے ساقی کے ہونٹ

    سر جھکا ہے جو بھی اب ارباب مے خانہ کہیں

    تشنگی ہی تشنگی ہے کس کو کہیے مے کدہ

    لب ہی لب ہم نے تو دیکھے کس کو پیمانہ کہیں

    پارۂ دل ہے وطن کی سرزمیں مشکل یہ ہے

    شہر کو ویران یا اس دل کو ویرانہ کہیں

    اے رخ زیبا بتا دے اور ابھی ہم کب تلک

    تیرگی کو شمع تنہائی کو پروانہ کہیں

    آرزو ہی رہ گئی مجروحؔ کہتے ہم کبھی

    اک غزل ایسی جسے تصویر جانانہ کہیں

    RECITATIONS

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    مجروح سلطانپوری

    اہل طوفاں آؤ دل والوں کا افسانہ کہیں مجروح سلطانپوری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY