عکس بھی عرصۂ حیران میں رکھا ہوا ہے

ناہید ورک

عکس بھی عرصۂ حیران میں رکھا ہوا ہے

ناہید ورک

MORE BYناہید ورک

    عکس بھی عرصۂ حیران میں رکھا ہوا ہے

    کون یہ آئینہ رو دھیان میں رکھا ہوا ہے

    شام کی شام سے سرگوشی سنی تھی اک بار

    بس تبھی سے تجھے امکان میں رکھا ہوا ہے

    ہاں ترے ذکر پہ اک، کاٹ سی اٹھتی ہے ابھی

    ہاں ابھی دل ترے بحران میں رکھا ہوا ہے

    ایک ہی آگ میں جلنا تو ضروری بھی نہیں

    ہاں مگر چہرہ وہی دھیان میں رکھا ہوا ہے

    رابطے اس سے سبھی توڑ کے یاد آیا ہے

    آخری وعدہ تو سامان میں رکھا ہوا ہے

    راس آتا ہی نہیں کوئی تعلق ناہیدؔ

    دل خوش فہم مگر مان میں رکھا ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY