اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے

انور دہلوی

اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے

انور دہلوی

MORE BYانور دہلوی

    اب اپنا حال ہم انہیں تحریر کر چکے

    خامہ سپرد کاتب تقدیر کر چکے

    کہتے ہیں تم وصال کی تدبیر کر چکے

    گویا ہمارے حق میں وہ تقدیر کر چکے

    تدبیر کو حوالۂ تقدیر کر چکے

    ہم بے زباں بھی یار سے تقریر کر چکے

    دل خار خار خندۂ چشم اثر ہے اب

    دل گرم صرف نالۂ شب گیر کر چکے

    مرتا ہوں یوں کہ بستۂ فتراک کیوں نہیں

    میں ہوں وہی کہ تم جسے نخچیر کر چکے

    ہم جان کیوں نہ دیں دم گفتار بار بار

    پر دیکھتے ہیں یہ کہ وہ تقریر کر چکے

    باہر ہے ضبط شرم سے آشفتگی مری

    تم بھی اسیر زلف گرہ گیر کر چکے

    وقت پیام وصل وہ کہتے ہیں ہو چکا

    شاید عدو سے وصل کی تحریر کر چکے

    بس انتظار‌ صبح قیامت نہیں قبول

    ہم اب تو عزم نالۂ شب گیر کر چکے

    کچھ مزد رنج بازوئے قاتل نہیں کہ دل

    نذر ادائے برش شمشیر کر چکے

    کھلتا نہیں یہ عقدہ کہ ہو بیٹھے شاد کیوں

    کس کو اسیر زلف گرہ گیر کر چکے

    کہئے کہ شان عشق میں کیا ہو گئی کمی

    گو آپ خوب سی مری تحقیر کر چکے

    دل ہے یہاں دو نیم قصور تپش معاف

    تم بھی نگاہ بزم کو شمشیر کر چکے

    کھلتا ہے اور نالہ سرائی سے دل مرا

    نالہ یہ بیں تو ان پہ بھی تاثیر کر چکے

    صورت چھپائیے کسی صورت پرست سے

    ہم دل میں نقش آپ کی تصویر کر چکے

    دامن کشاں چلے ہیں مری خاک پر سے وہ

    برباد کرنے کی مری تدبیر کر چکے

    کچھ حشر خیزی شب غم انتظار مرگ

    کچھ دور ظلم وقت کی تاخیر کر چکے

    گوتم نے اس کو رکھ کے نظر میں گرا دیا

    لیکن عدو کی عزت و توقیر کر چکے

    تا چرخ ہیں اڑائے پھرے مجھ کو ضعف میں

    نالے کہاں کہاں مجھے تشہیر کر چکے

    ہے وہاں نگہ نگہ کو سر‌ دلبری مگر

    دل کو میرے وہ قسمت صد تیر کر چکے

    کہئے کہ زور‌ بازوئے میں کدھر گیا

    سو بار غیر آپ کی تقصیر کر چکے

    پہلے جبیں حوالۂ تقدیر کر چکے

    دل مصر ہے کہ کارکنان قضا اے

    سامان صد شکستیں تعمیر کر چکے

    چن چن کے بے گنہ کو وہ لاتے ہیں زیر‌ تیغ

    ہم جب سے اس امید پہ تقصیر کر چکے

    آخر تو بعد اس کے ہے یاس سے امید

    جو کچھ ہم اپنی آہ کی تاثیر کر چکے

    اب کیا کہیں کہ قول وفا دے چکے انہیں

    پہلے ہی قطع دامن تقریر کر چکے

    اب کیا رہا لپیٹ میں دامن سے آپ کے

    مٹی ہم اپنی آپ جو توقیر کر چکے

    ہے چشم دجلہ باز تو کیا ہم کو چشم زیست

    کاشانہ روئے آب پہ تعمیر کر چکے

    کیوں التجائے قتل سے کیجیے انہیں ستنگ

    جب وقت آ گیا تو وہ تاخیر کر چکے

    ہم کس سے شکر و مدح قبول دعا کریں

    لب قسمت شکایت تاثیر کر چکے

    اب منہ سے بولتی کوئی تصویر آپ کی

    جاں اپنی ہم حوالۂ تقدیر کر چکے

    اس لب پہ امتحاں کے لئے مر مٹے ہیں ہم

    جینے سے پہلے مرنے کی تدبیر کر چکے

    ہوتا ہے وہ ہی یہاں کہ جو منظور ہے وہاں

    انورؔ ہم آزمائش تقدیر کر چکے

    مآخذ:

    Deewan-e-Anwar Nazm-e-Dilfroz
    • Deewan-e-Anwar Nazm-e-Dilfroz

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY