اپنے وہم و گمان سے نکلا

عبدالمتین نیاز

اپنے وہم و گمان سے نکلا

عبدالمتین نیاز

MORE BYعبدالمتین نیاز

    اپنے وہم و گمان سے نکلا

    میں اندھیرے مکان سے نکلا

    بے رخی دیکھ اب زمانے کی

    مدعا کیوں زبان سے نکلا

    سمت کا غم نہ تھا سفینے کو

    یہ الم بادبان سے نکلا

    دھوپ برسا رہی تھیں تلواریں

    پھر بھی میں سائبان سے نکلا

    وقت مہلت نہ دے گا پھر تم کو

    تیر جس دم کمان سے نکلا

    آ گیا لیجئے ساحل ہستی

    میں بڑے امتحان سے نکلا

    زندگی کا نیا مزاج نیازؔ

    درد کے خاندان سے نکلا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY