اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

باقر مہدی

اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

باقر مہدی

MORE BY باقر مہدی

    اشک میرے ہیں مگر دیدۂ نم ہے اس کا

    یہ جو ہونٹوں پہ تبسم ہے کرم ہے اس کا

    ان کہی بات بھلا لکھوں تو لکھوں کیسے

    سادے کاغذ پہ کوئی راز رقم ہے اس کا

    فاصلے ایسے کہ اک عمر میں طے ہو نہ سکیں

    قربتیں ایسی کہ خود مجھ میں جنم ہے اس کا

    سنگ و آہن کا بڑا شہر بھی ویرانہ لگے

    یہ جنوں میرا ہے اور دشت ستم ہے اس کا

    درد بن کر مرے سینے میں پڑا رہتا ہے

    یہ مرا دل ہے کہ اک نقش قدم ہے اس کا؟

    ایک طوفاں کی طرح کب سے کنارہ کش ہے

    پھر بھی باقرؔ مری نظروں میں بھرم ہے اس کا

    مآخذ:

    • کتاب : Monthly Usloob (Pg. 524)
    • Author : Mushfiq Khawaja
    • مطبع : Usloob 3D 9—26 Nazimabad karachi   180007 (Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6)
    • اشاعت : Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY