باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے

عبید اللہ علیم

باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے

    ہر دھوپ میں جو مجھے سایا دے وہ سچا سایا گھر میں ہے

    پاتال کے دکھ وہ کیا جانیں جو سطح پہ ہیں ملنے والے

    ہیں ایک حوالہ دوست مرے اور ایک حوالہ گھر میں ہے

    مری عمر کے اک اک لمحے کو میں نے قید کیا ہے لفظوں میں

    جو ہارا ہوں یا جیتا ہوں وہ سب سرمایہ گھر میں ہے

    تو ننھا منا ایک دیا میں ایک سمندر اندھیارا

    تو جلتے جلتے بجھنے لگا اور پھر بھی اندھیرا گھر میں ہے

    کیا سوانگ بھرے روٹی کے لیے عزت کے لیے شہرت کے لیے

    سنو شام ہوئی اب گھر کو چلو کوئی شخص اکیلا گھر میں ہے

    اک ہجر زدہ بابل پیاری ترے جاگتے بچوں سے ہاری

    اے شاعر کس دنیا میں ہے تو تری تنہا دنیا گھر میں ہے

    دنیا میں کھپائے سال کئی آخر میں کھلا احوال یہی

    وہ گھر کا ہو یا باہر کا ہر دکھ کا مداوا گھر میں ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    عبید اللہ علیم

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے فہد حسین

    مآخذ
    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 27)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY