بے خدا ہونے کے ڈر میں بے سبب روتا رہا

عذرا پروین

بے خدا ہونے کے ڈر میں بے سبب روتا رہا

عذرا پروین

MORE BYعذرا پروین

    بے خدا ہونے کے ڈر میں بے سبب روتا رہا

    دل کے چوتھے آسماں پر کون شب روتا رہا

    کیا عجب آواز تھی سوتے شکاری جاگ اٹھے

    پر وہ اک گھائل پرندہ جاں بہ لب روتا رہا

    جاتے جاتے پھر دسمبر نے کہا کچھ مانگ لے

    خالی آنکھوں سے مگر دل بے طلب روتا رہا

    میں نے پھر اپریل کے ہاتھوں سے دل کو چھو لیا

    اور دل سایوں سے لپٹا ساری شب روتا رہا

    اس نے میرے نام سورج چاند تارے لکھ دیا

    میرا دل مٹی پہ رکھ اپنے لب روتا رہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے