بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے

شاہد ذکی

بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے

شاہد ذکی

MORE BYشاہد ذکی

    بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے

    سورج سے روشنی کی گزارش فضول ہے

    کسی نے کہا تھا ٹوٹی ہوئی ناؤ میں چلو

    دریا کے ساتھ آپ کی رنجش فضول ہے

    نابود کے سراغ کی صورت نکالئے

    موجود کی نمود و نمائش فضول ہے

    میں آپ اپنی موت کی تیاریوں میں ہوں

    میرے خلاف آپ کی سازش فضول ہے

    اے آسمان تیری عنایت بجا مگر

    فصلیں پکی ہوئی ہوں تو بارش فضول ہے

    جی چاہتا ہے کہہ دوں زمین و زماں سے میں

    منزل اگر نہیں ہے تو گردش فضول ہے

    انعام ننگ و نام مرے کام کے نہیں

    مجذوب ہوں سو میری ستائش فضول ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY