بجھ رہی ہے آنکھ یہ جسم ہے جمود میں

طاہر عدیم

بجھ رہی ہے آنکھ یہ جسم ہے جمود میں

طاہر عدیم

MORE BYطاہر عدیم

    بجھ رہی ہے آنکھ یہ جسم ہے جمود میں

    اے مکین شہر دل آ مری حدود میں

    پڑ گئی دراڑ سی کیا درون دل کہیں

    آ گئی شکستگی کیوں مرے وجود میں

    خواہش قدم کہ ہوں اس طرف ہی گامزن

    دل کی آرزو رہے اس کی ہی قیود میں

    رنگ کیا عجب دیا میری بے وفائی کو

    اس نے یوں کیا کہ میرے خط جلائے عود میں

    تو نے جو دیا ہمیں اس سے بڑھ کے دیں گے ہم

    بے وفائی اصل زر نفرتوں کو سود میں

    بام انتظار پر دیکھتا ہوں دو دیئے

    جھانکتا ہوں جب کبھی رفتگاں کے دود میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے