چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا

پروین شاکر

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیا

    ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا

    میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی

    وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا

    بہت عزیز سہی اس کو میری دل داری

    مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا

    اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں

    وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

    سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا

    جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا

    یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں

    کہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY