چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں

آلوک مشرا

چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں

آلوک مشرا

MORE BYآلوک مشرا

    چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں

    گھپ اندھیروں میں ڈوبتا جاؤں

    کب سے پھرتا ہوں اس توقع پر

    خود کو شاید کہیں میں پا جاؤں

    روح تک بجھ چکی ہے مدت سے

    تو جو چھو لے تو جگمگا جاؤں

    لمحہ لمحہ یہ چھانو گھٹتی ہے

    پتہ پتہ میں ٹوٹتا جاؤں

    دھوپ پی کر تمام صحرا کی

    ابر بن کر میں خود پہ چھا جاؤں

    دکھ سے کیسا بھرا ہوا ہے دل

    اس کو سوچوں تو سوچتا جاؤں

    ایک پتہ ہوں شاخ سے بچھڑا

    جانے بہہ کر میں کس دشا جاؤں

    جی میں آتا ہے چھوڑ دوں یہ زمیں

    آسمانوں میں جا سما جاؤں

    RECITATIONS

    آلوک مشرا

    آلوک مشرا,

    آلوک مشرا

    چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں آلوک مشرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY