دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ

منظر سلیم

دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ

منظر سلیم

MORE BYمنظر سلیم

    دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ

    جرأت کہاں کہ صحرا سے ہوں ہم کنار لوگ

    جادو فضا کا تھا کہ ہوا میں ملا تھا زہر

    پتھر ہوئے جہاں تھے وہیں بے شمار لوگ

    اب سایہ و ثمر کی توقع کہاں رکے

    سوکھے ہوئے شجر ہیں سر رہ گزار لوگ

    دہشت کھلی فضا کی قیامت سے کم نہ تھی

    گرتے ہوئے مکانوں میں آ بیٹھے یار لوگ

    اک دوسرے کا حال نہیں پوچھتا کوئی

    اک دوسرے کی موت پہ ہیں شرمسار لوگ

    سورج چڑھا تو پگھلی بہت چوٹیوں کی برف

    آندھی چلی تو اکھڑے بہت سایہ دار لوگ

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دریا ہیں پھر بھی ملتے نہیں مجھ سے یار لوگ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY