دشت تنہائی بادل ہوا اور میں

تابش مہدی

دشت تنہائی بادل ہوا اور میں

تابش مہدی

MORE BYتابش مہدی

    دشت تنہائی بادل ہوا اور میں

    روز و شب کا یہی سلسلا اور میں

    اجنبی راستوں پر بھٹکتے رہے

    آرزوؤں کا اک قافلا اور میں

    دونوں ان کی توجہ کے حق دار ہیں

    مجھ پہ گزرا تھا جو سانحا اور میں

    سیکڑوں غم مرے ساتھ چلتے رہے

    جس کو چھوڑا اسی نے کہا اور میں

    روشنی آگہی اور زندہ دلی

    ان حریفوں سے تھا واسطا اور میں

    دیر تک مل کے روتے رہے راہ میں

    ان سے بڑھتا ہوا فاصلا اور میں

    جب بھی سوچا تو بس سوچتا رہ گیا

    زندگانی ترا مرحلا اور میں

    طنز دشنام لعنت عداوت حسد

    ان رفیقوں کا سایہ رہا اور میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY