دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں

رئیس فروغ

دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    دھوپ میں ہم ہیں کبھی ہم چھاؤں میں

    راستے الجھے ہوئے ہیں پاؤں میں

    بستیوں میں ہم بھی رہتے ہیں مگر

    جیسے آوارہ ہوا صحراؤں میں

    ہم نے اپنایا درختوں کا چلن

    خود کبھی بیٹھے نہ اپنی چھاؤں میں

    کس قدر نادان ہیں اہل جہاں

    ہم گنے جانے لگے داناؤں میں

    سامنے کچھ دیر لہراتے رہے

    پھر وہ ساحل بہہ گئے دریاؤں میں

    اک یہی دنیا بدلتی ہے فروغؔ

    کیسی کیسی اجنبی دنیاؤں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY