دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

ارشد جمال صارم

دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

ارشد جمال صارم

MORE BY ارشد جمال صارم

    دکھاتی ہے جو یہ دنیا وہ بیٹھا دیکھتا ہوں میں

    ہے تف مجھ پر تماشہ بین ہو کر رہ گیا ہوں میں

    بس اتنا ربط کافی ہے مجھے اے بھولنے والے

    تری سوئی ہوئی آنکھوں میں اکثر جاگتا ہوں میں

    نہ کیوں ہوگی مری بار آوری پھر دیکھنے لائق

    محبت کی مہکتی خاک میں بویا گیا ہوں میں

    مری آبادیوں میں چار سو بکھرا ہے سناٹا

    حصار خوف سے چاروں طرف باندھا گیا ہوں میں

    رلاتی ہیں مری یادیں ہمیشہ خون کے آنسو

    کسی نادار پہ گزرا ہوا اک حادثہ ہوں میں

    مسلسل ہی بڑھائی ہیں کسی کی دھڑکنیں میں نے

    مسلسل ہی کسی کے ذہن سے سوچا گیا ہوں میں

    وراثت ہوں میں اک ڈھلتی ہوئی تہذیب کی صارمؔ

    کہیں کھویا گیا ہوں میں کہیں پایا گیا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY