دل بھی آپ کو بھول چکا ہے

آفتاب حسین

دل بھی آپ کو بھول چکا ہے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    دل بھی آپ کو بھول چکا ہے

    صاحب آپ سے پردہ کیا ہے

    کہنے سننے کی باتیں ہیں

    کون کسے اپنا سکتا ہے

    عشق میں کیا سچا کیا جھوٹا

    یہ تو عمروں کا رونا ہے

    حال ہمارا پوچھنے والے

    کیا بتلائیں سب اچھا ہے

    کیا کیا بات نہ بن سکتی تھی

    لیکن اب کیا ہو سکتا ہے

    اب بھی دل کے دروازے پر

    ایک دیا جلتا رہتا ہے

    کب تک ساتھ نبھاتا آخر

    وہ بھی دنیا میں رہتا ہے

    دنیا پر کیوں دوش دھریں ہم

    اپنا دل بھی کب اپنا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY