ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

مظفر وارثی

ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا

    میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا

    پہنچ تو جاؤں گا آب حیات تک لیکن

    زباں بھگونے سے پہلے ہی مر چکا ہوں گا

    سنائی جائے گی جب تک مجھے سزائے سخن

    سکوت وقت میں آواز بھر چکا ہوں گا

    مثال ریگ ہوں میں ساعتوں کی مٹھی میں

    وہ جب تک آئے گا سارا بکھر چکا ہوں گا

    زمانہ آئے گا اس وقت خیر مقدم کو

    جب اس جہاں سے مظفرؔ گزر چکا ہوں گا

    مآخذ:

    • کتاب : Kalam-e- muzaffar warsi (Pg. 94)
    • مطبع : Farid book depot (pvt)Ltd

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY