دودھ جیسا جھاگ لہریں ریت اور یہ سیپیاں

حسن اکبر کمال

دودھ جیسا جھاگ لہریں ریت اور یہ سیپیاں

حسن اکبر کمال

MORE BYحسن اکبر کمال

    دودھ جیسا جھاگ لہریں ریت اور یہ سیپیاں

    جن کو چنتی پھر رہی ہیں موتیوں سی لڑکیاں

    باغ میں بچوں کے گرد و پیش یوں اڑتی پھریں

    جیسے قاتل اپنا اپنا ڈھونڈھتی ہوں تتلیاں

    وہ مجھے خوشیاں نہ دے اور میری آنکھیں نم نہ ہوں

    ہے یہ پیماں زندگی کے اور میرے درمیاں

    بام و در ان کے ہوا کس پیار سے چھوتی رہی

    چاندنی کی گود میں جب سو رہی تھیں بستیاں

    کل یہی بچے سمندر کو مقابل پائیں گے

    آج تیراتے ہیں جو کاغذ کی ننھی کشتیاں

    گھومنا پہروں گھنے مہکے ہوئے بن میں کمالؔ

    واپسی میں دیکھنا اپنے ہی قدموں کے نشاں

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 425)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY