ایک بھی چین کا بستر نہیں ہونے دیتا

عبدالصمد تپشؔ

ایک بھی چین کا بستر نہیں ہونے دیتا

عبدالصمد تپشؔ

MORE BYعبدالصمد تپشؔ

    ایک بھی چین کا بستر نہیں ہونے دیتا

    میرے گھر کو وہ مرا گھر نہیں ہونے دیتا

    نت نیا ایک شگوفہ وہ دکھاتا ہے مجھے

    ظلم کی حد وہ مقرر نہیں ہونے دیتا

    سب کو دکھلاتا ہے وہ چھوٹا بنا کر مجھ کو

    مجھ کو وہ میرے برابر نہیں ہونے دیتا

    کیسی سازش ہے یہ اس کی ذرا میں بھی دیکھوں

    کیوں مجھے وہ سر منظر نہیں ہونے دیتا

    خوف کیسا ہے یہ شاہیں کے قبیلہ میں تپشؔ

    کیوں ممولوں میں کوئی پر نہیں ہونے دیتا

    مأخذ :
    • کتاب : Mata-e-Aainda (Pg. 19)
    • Author : Abdussamad Tapish
    • مطبع : Abdussamad Tapish (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے