فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم

میر حسن

فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم

میر حسن

MORE BYمیر حسن

    فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہم

    اٹھ گئے جب یاں کے گزرے آہ تب آئیں ہیں ہم

    اور کچھ تحفہ نہ تھا جو لاتے ہم تیرے نیاز

    ایک دو آنسو تھے آنکھوں میں سو بھر لائیں ہیں ہم

    طرفہ حالت ہے نہ وہ آتا ہے نہ جاتا ہے جی

    اور یہاں بے طاقتی سے دل کی گھبرائیں ہیں ہم

    جس طرف جاتے وہاں لگتا نہیں کیا کیجیے

    اس دل وحشی کے ہاتھوں سخت اکتائیں ہیں ہم

    دیکھیے اب کیا جواب آوے وہاں سے ہم نشیں

    نامہ تو لکھ کر حسنؔ کا اس کو پہنچایں ہیں ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY