فرار پا نہ سکا کوئی راستہ مجھ سے

اقبال اشہر قریشی

فرار پا نہ سکا کوئی راستہ مجھ سے

اقبال اشہر قریشی

MORE BYاقبال اشہر قریشی

    فرار پا نہ سکا کوئی راستہ مجھ سے

    ہزار بار مرا سامنا ہوا مجھ سے

    درخت ہاتھ ہلاتے تھے رہنمائی کو

    مسافروں نے تو کچھ بھی نہیں کہا مجھ سے

    یہ بے ہنر بھی نہیں ساتھ بھی نہیں دیتے

    نہ جانے ہے مرے ہاتھوں کو بیر کیا مجھ سے

    میں لوٹنے کے تصور سے خوف کھاتا ہوں

    لپٹ نہ جائیں کہیں میرے نقش پا مجھ سے

    ہزار بار جنم بھی لیا تو کیا اشہرؔ

    مرا وجود بچھڑتا چلا گیا مجھ سے

    مأخذ :
    • کتاب : Be Sada Fariyad (Pg. 92)
    • Author : Iqbal Ashhar Qureshi
    • مطبع : Sarvottam Marketing in Corporation Vivekanand Nagar Kamti, Mumbai (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY