غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں

فضل احمد کریم فضلی

غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں

فضل احمد کریم فضلی

MORE BYفضل احمد کریم فضلی

    غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں

    نہ ہو یہ کھیل تو پھر لطف زندگی بھی نہیں

    نہیں کہ دل میں تمنا مرے کوئی بھی نہیں

    مگر یہ بات کچھ ایسی کی گفتنی بھی نہیں

    ابھی میں کیا اٹھوں نیت ابھی بھری بھی نہیں

    ستم یہ اور کہ مے کی ابھی کمی بھی نہیں

    ادائیں ان کی سناتی ہیں مجھ کو میری غزل

    غزل بھی وہ کہ جو میں نے ابھی کہی بھی نہیں

    حضور دوست مرے گو مگو کے عالم نے

    کہا بھی ان سے جو کہنا تھا بات کی بھی نہیں

    ہمارے ان کے تعلق کا اب یہ عالم ہے

    کہ دوستی کا ہے کیا ذکر دشمنی بھی نہیں

    کہا جو ترک محبت کو شیخ نے کھلا

    فرشتہ تو نہیں لیکن یہ آدمی بھی نہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 633)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY