گرم زمیں پر آ بیٹھے ہیں خشک لب محروم لیے

رئیس فروغ

گرم زمیں پر آ بیٹھے ہیں خشک لب محروم لیے

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    گرم زمیں پر آ بیٹھے ہیں خشک لب محروم لیے

    پانی کی اک بوند نہ پائی بادل بادل گھوم لیے

    سج رہے ہوں گے نازک پودے چل رہی ہوگی نرم ہوا

    تنہا گھر میں بیٹھے بیٹھے سوچ لیا اور جھوم لیے

    آنگن کی مانوس فضا میں خوابوں نے زنجیر بنی

    بعد میں جھک کر اپنے سائے دیواروں نے چوم لیے

    میں نے کتنے رستے بدلے لیکن ہر رستے میں فروغؔ

    ایک اندھیرا ساتھ رہا ہے روشنیوں کے ہجوم لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY