گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے

آشفتہ چنگیزی

گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے

آشفتہ چنگیزی

MORE BYآشفتہ چنگیزی

    گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے

    پروں میں دھوپ کے اک کالی رات رکھ لیتے

    ہمیں خبر تھی زباں کھولتے ہی کیا ہوگا

    کہاں کہاں مگر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیتے

    تمام جنگوں کا انجام میرے نام ہوا

    تم اپنے حصے میں کوئی تو مات رکھ لیتے

    کہا تھا تم سے کہ یہ راستہ بھی ٹھیک نہیں

    کبھی تو قافلے والوں کی بات رکھ لیتے

    یہ کیا کیا کہ سبھی کچھ گنوا کے بیٹھ گئے

    بھرم تو بندۂ مولا صفات رکھ لیتے

    میں بے وفا ہوں چلو یہ بھی مان لیتا ہوں

    بھلے برے ہی سہی تجربات رکھ لیتے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گھروندے خوابوں کے سورج کے ساتھ رکھ لیتے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY