غنچہ جو سر شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

عشرت قادری

غنچہ جو سر شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

عشرت قادری

MORE BYعشرت قادری

    غنچہ جو سر شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا

    پہلو میں بہت دل کو دھڑکتے ہوئے دیکھا

    مہندی رچے ہاتھوں نے اٹھایا ہی تھا گھونگھٹ

    اک شعلۂ جوالہ لپکتے ہوئے دیکھا

    وہ تیرے بچھڑنے کا سماں یاد جب آیا

    بیتے ہوئے لمحوں کو سسکتے ہوئے دیکھا

    بھولا نہیں احساس ترے لمس کی خوشبو

    تنہائی میں انفاس مہکتے ہوئے دیکھا

    کھینچے ہوئے اب تیر کماں میں ہے وہ بالک

    آغوش میں جس کو نہ ہمکتے ہوئے دیکھا

    جب جب بھی چراغوں کی لویں ہم نے بڑھائیں

    کیا کیا نہ ہواؤں کو سنکتے ہوئے دیکھا

    مآخذ:

    • کتاب : Sahar Numa (Pg. 48)
    • Author : Ishrat Qadri
    • مطبع : Madhya Pradesh Urdu Academy (1984)
    • اشاعت : 1984

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY