گزرنے والی ہوا کو بتا دیا گیا ہے

عزیز نبیل

گزرنے والی ہوا کو بتا دیا گیا ہے

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    گزرنے والی ہوا کو بتا دیا گیا ہے

    کہ خوشبوؤں کا جزیرہ جلا دیا گیا ہے

    زمیں کی آنکھ کا نقشہ بنا دیا گیا ہے

    اور ایک تیر فضا میں چلا دیا گیا ہے

    اسی کے دم سے تھا روشن سپاہ شب کا علم

    وہ چاند جس کو زمیں میں دبا دیا گیا ہے

    وہ ایک راز! جو مدت سے راز تھا ہی نہیں

    اس ایک راز سے پردہ اٹھا دیا گیا ہے

    تمہیں پتا نہیں خانہ بدوش امیدو؟

    نیا علاقہ سر جاں بسا دیا گیا ہے

    جہاں ہوا تھا بصارت کا قتل عام نبیلؔ

    وہاں اک آئنہ خانہ بنا دیا گیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY