ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

شبانہ یوسف

ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

شبانہ یوسف

MORE BY شبانہ یوسف

    ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

    لوگ تو پھر ہمیں محفل سے اٹھانے لگ جائیں

    یاد بھی آج نہیں ٹھیک طرح سے جو شخص

    ہم اسے بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جائیں

    شام ہوتے ہی کوئی خوشبو دریچہ کھولے

    اور پھر بیتے ہوئے لمحے ستانے لگ جائیں

    خود چراغوں کو اندھیروں کی ضرورت ہے بہت

    روشنی ہو تو انہیں لوگ بجھانے لگ جائیں

    اک یہی سوچ بچھڑنے نہیں دیتی تجھ سے

    ہم تجھے بعد میں پھر یاد نہ آنے لگ جائیں

    ایک مدت سے یہ تنہائی میں جاگے ہوئے لوگ

    خواب دیکھیں تو نیا شہر بسانے لگ جائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY