ہم ایسے سرپھرے دنیا کو کب درکار ہوتے ہیں

عباس قمر

ہم ایسے سرپھرے دنیا کو کب درکار ہوتے ہیں

عباس قمر

MORE BYعباس قمر

    ہم ایسے سرپھرے دنیا کو کب درکار ہوتے ہیں

    اگر ہوتے بھی ہیں بے انتہا دشوار ہوتے ہیں

    خموشی کہہ رہی ہے اب یہ دو آبا رواں ہوگا

    ہوا چپ ہو تو بارش کے شدید آثار ہوتے ہیں

    ذرا سی بات ہے اس کا تماشا کیا بنائیں ہم

    ارادے ٹوٹتے ہیں حوصلے مسمار ہوتے ہیں

    شکایت زندگی سے کیوں کریں ہم خود ہی تھم جائیں

    جو کم رفتار ہوتے ہیں وہ کم رفتار ہوتے ہیں

    گلے میں زندگی کے ریسمان وقت ہے تو کیا

    پرندے قید میں ہوں تو بہت ہوشیار ہوتے ہیں

    جہاں والے مقید ہیں ابھی تک عہد طفلی میں

    یہاں اب بھی کھلونے رونق بازار ہوتے ہیں

    گلوئے خشک ان کو بھیجتا ہے دے کے مشکیزہ

    کچھ آنسو تشنہ کاموں کے علمبردار ہوتے ہیں

    بدن ان کو کبھی باہر نکلنے ہی نہیں دیتا

    قمر عباسؔ تو باقاعدہ تیار ہوتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY