ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

مظفر وارثی

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

    اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

    سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح

    اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

    جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا

    سولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے

    شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس

    بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے

    کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن

    ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Karwaan-e-Ghazal (Pg. 218)
    • Author : Farooq Argali
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY