ہم نہ ہنستے ہیں اور نہ روتے ہیں

میر حسن

ہم نہ ہنستے ہیں اور نہ روتے ہیں

میر حسن

MORE BYمیر حسن

    ہم نہ ہنستے ہیں اور نہ روتے ہیں

    عمر حیرت میں اپنی کھوتے ہیں

    کھا کے غم خوان عشق کے مہمان

    ہاتھ خون جگر سے دھوتے ہیں

    وصل ہوتا ہے جن کو دنیا میں

    یا رب ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں

    کوس رحلت ہے جنبش ہر دم

    آہ تس پر بھی یار سوتے ہیں

    دل لگا اس سے مردم دیدہ

    ساتھ اپنے ہمیں ڈبوتے ہیں

    آہ و نالہ سے وہ خفا ہے عبث

    کانٹے ہم اپنے حق میں بوتے ہیں

    یاد آتی ہیں اس کی جب باتیں

    دل حسنؔ دونوں مل کے روتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY